ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ نے اپنے پرہیزگار بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔"
معانی الفاظ:
- "یَظُنُّونَ" – اس کا مطلب یہاں محض شک و گمان نہیں، بلکہ یقینِ کامل اور پختہ اعتقاد ہے۔ عربی زبان میں کبھی "ظن" کا لفظ یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔
- "مُّلَاقُو رَبِّہِمْ" – اپنے رب سے ملاقات کرنے والے، یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے والے۔
- "رَاجِعُونَ" – لوٹ کر جانے والے، یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے والے۔
تفسیر:
یہ آیت متقیوں اور پرہیزگاروں کی ایک اہم صفت بیان کرتی ہے۔ وہ لوگ جو خشیتِ الٰہی رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں، وہ اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن وہ اس دنیا سے کوچ کریں گے اور اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ موت کے بعد حیاتِ نو ہے، حساب و کتاب ہے، اور ہر عمل کا بدلہ ملنا ہے۔
یہ یقین ان کے دلوں میں اتنا گہرا ہوتا ہے کہ وہ اس دنیا کی زندگی کو عارضی اور فانی سمجھتے ہیں، اور آخرت کی کامیابی کو ہی اصل کامیابی جانتے ہیں۔ وہ ہر لمحہ اس حقیقت سے باخبر رہتے ہیں کہ انہیں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے، اس لیے وہ اپنے اعمال کو سنوارتے ہیں، اپنی زبان کو قابو میں رکھتے ہیں، اور اپنے دل کو پاکیزہ رکھتے ہیں۔
یہاں "ملاقاتِ الٰہی" سے مراد قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے، جو اہلِ ایمان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہوگی۔ مومن کو اپنے رب سے ملاقات کی امید ہوتی ہے اور یہی امید اسے گناہوں سے روکتی ہے اور نیکیوں کی طرف راغب کرتی ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں کہ اگر ہمیں واقعی یقین ہو کہ ہمیں ایک دن اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے، تو کیا ہم اپنی زندگی ایسے گزاریں گے جیسے آج ہی مرنا ہے اور کل قیامت ہے؟ یہ یقین ہی وہ چیز ہے جو انسان کو صراطِ مستقیم پر چلاتی ہے۔ جب دل میں یہ عقیدہ پختہ ہو جائے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے، ہر عمل کا حساب ہوگا، اور ہم اپنے رب سے ملاقات کریں گے، تو پھر گناہ کرنے کی جرات نہیں ہوتی۔
یہ وہی یقین ہے جو صحابہ کرام اور سلف صالحین کو شب و روز عبادت میں مشغول رکھتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے، اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔ آئیے ہم بھی اپنے دلوں میں اس یقین کو مضبوط کریں، اپنے اعمال کی اصلاح کریں، اور اس زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزاریں تاکہ ہم بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہوں جنہیں اپنے رب کی ملاقات نصیب ہوگی۔ اللہ ہمیں اس توفیق سے نوازے۔ آمین۔
📜 آیت 44-48 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 46
سورہ بقرہ آیت 46 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار…سورہ آیت 46/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 44–48. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








