ترجمہ — Tafsir
ثُمَّ عَفَوْنَا عَنكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
معانی الفاظ:
- عَفَوْنَا: ہم نے معاف کر دیا، درگزر فرمایا، محو کر دیا۔
- مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ: اس کے بعد (یعنی گوسالہ پرستی کے اس عظیم گناہ کے بعد)۔
- لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ: تاکہ تم شکر گزار بنو۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور رحمتِ خاص کا ذکر فرما رہے ہیں۔ بنی اسرائیل نے گوسالہ پرستی کا انتہائی قبیح اور سنگین گناہ کیا تھا، جس کی وجہ سے ان پر اللہ کا غضب نازل ہونا تھا۔ لیکن جب انہوں نے توبہ کی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی طرف سے دعا کی، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کے اس گناہ کو معاف فرما دیا۔
یہ معافی اس لیے تھی کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانیں، اس کا شکر ادا کریں، اور اپنے گناہ پر نادم ہو کر راہِ راست پر قائم رہیں۔ شکر کا مطلب صرف زبان سے "شکر" کہنا نہیں، بلکہ اللہ کی ہر نعمت کو اس کی اطاعت اور بندگی میں استعمال کرنا ہے۔ جب اللہ کسی قوم کو معاف کرتا ہے تو اس کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم نئے سرے سے اللہ کی اطاعت کا عہد کرے اور نافرمانی سے بچے۔
یہ واقعہ ہمارے لیے بھی ایک عظیم سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے چاہے گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ معافی کے بعد شکر گزاری ضروری ہے، ورنہ انسان پھر سے غفلت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو توبہ کرنے کے بعد ثابت قدم رہتے ہیں۔ آمین۔
📜 آیت 50-54 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 52
سورہ آیت 52/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 50–54. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








