Wa iz akhaznaa meesaaqa Baneee Israaa`eela laa ta`budoona illal laaha wa bil waalidaini ihsaananw wa zil qurbaa walyataamaa walmasaakeeni wa qooloo linnaasi husnanw wa aqeemus salaata wa aatuzZakaata summa tawallitum illaa qaleelam minkum wa antum mu`ridoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا، اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہنا، تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
به ياد آريد آن هنگام را كه از بنى اسرائيل پيمان گرفتيم كه جز خدا را نپرستيد و به پدر و مادر و خويشاوندان آن و يتيمان و درويشان نيكى كنيد و به مردمان سخن نيك گوييد و نماز بخوانيد و زكات بدهيد. ولى جز اندكى از شما، پشت كرديد و شماييد روىگردانندگان.
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا، اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہنا، تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مِيثَاقَ: پختہ عہد اور مضبوط معاہدہ۔
لَا تَعْبُدُونَ: یہ خبر کے صیغے میں حکم ہے، یعنی تم عبادت نہ کرو۔
ذِي الْقُرْبَىٰ: قریبی رشتہ دار۔
الْيَتَامَىٰ: وہ بچے جن کے باپ ان کی بلوغت سے پہلے وفات پا چکے ہوں۔
الْمَسَاكِينِ: حاجت مند اور محتاج لوگ۔
تَوَلَّيْتُمْ: تم نے منہ موڑ لیا، عہد سے روگردانی کی۔
مُعْرِضُونَ: اعراض کرنے والے، حق سے منہ موڑنے والے۔
تفسیر:
اے بنی اسرائیل! اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا تھا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے۔ یہ عہد تمہاری کتاب تورات میں بھی درج تھا۔ اس عہد میں مزید یہ بھی شامل تھا کہ تم والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، ان کی خدمت کرو، ان کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آؤ، اور ان کی اطاعت کرو جب تک وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں۔ اسی طرح رشتہ داروں، یتیم بچوں اور محتاجوں کے ساتھ بھی احسان کرو، ان کی مدد کرو اور ان کے حقوق ادا کرو۔
ساتھ ہی یہ حکم بھی تھا کہ لوگوں سے اچھی بات کہو، نرمی اور حکمت سے گفتگو کرو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو، لیکن سختی اور درشتی سے نہیں بلکہ محبت اور شفقت کے ساتھ۔ نیز نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔
یہ تھا وہ عظیم عہد جو اللہ نے بنی اسرائیل سے لیا تھا۔ لیکن افسوس! انہوں نے اس عہد کو توڑ دیا، اس سے روگردانی کی، صرف تھوڑے سے لوگوں نے اس پر عمل کیا جو ایمان لائے تھے۔ باقی سب اعراض کرنے والے بن گئے، جیسے ان کے آباء و اجداد نے پہلے بھی اعراض کیا تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے جو عہد لیا تھا، وہی عہد ہم مسلمانوں سے بھی لیا گیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں، والدین کے ساتھ حسن سلوک کریں، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کریں، لوگوں سے اچھی باتیں کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ یہ وہ بنیادی اصول ہیں جن پر ایک مضبوط معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ آئیے ہم اس عہد کو یاد رکھیں اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیاں سنواریں، تاکہ اللہ کی رحمت اور برکتیں ہم پر نازل ہوں۔ یاد رکھیں، عہد شکنی کا انجام برا ہوتا ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے کیے گئے وعدوں کو پورا کریں اور اس کی اطاعت میں اپنی زندگی گزاریں۔
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا، اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہنا، تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے
پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کر دیتے ہو اور اپنے میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کرکے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو، اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلہ دے کر ان کو چھڑا بھی لیتے ہو، حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا۔ (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتابِ (خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو، تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دیئے جائیں اور جو کام تم کرتے ہو، خدا ان سے غافل نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔