ترجمہ — Tafsir
اذْهَبَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ
معانی الفاظ:
- اذْهَبَا: تم دونوں جاؤ (موسیٰ اور ہارون علیہما السلام)
- فِرْعَوْنَ: مصر کا بادشاہ، جو اپنی سرکشی میں حد سے بڑھ گیا تھا
- طَغَىٰ: حد سے تجاوز کرنا، سرکشی کرنا، کفر اور ظلم میں انتہا کو پہنچ جانا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کو ایک عظیم مشن پر روانہ فرمایا۔ یہ حکم صرف دعوت کا نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری اور امانت تھی۔ اللہ نے دونوں بھائیوں کو مخاطب کر کے فرمایا: تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ، کیونکہ وہ سرکش ہو گیا ہے۔
فرعون نے اپنی طاقت اور سلطنت کے نشے میں ربوبیت کا دعویٰ کر دیا تھا، لوگوں کو اپنا بندہ بنایا، اور اللہ کی عبادت سے روک دیا۔ وہ ظلم، جبر اور کفر میں اس قدر آگے بڑھ گیا تھا کہ اس کی سرکشی کی کوئی حد نہ رہی۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دعوتِ حق کے دو اہم اصول سکھائے:
- اجتماعی دعوت: موسیٰ علیہ السلام کو اکیلے نہیں بھیجا، بلکہ ہارون علیہ السلام کو ساتھی بنایا۔ یہ اس بات کی تعلیم ہے کہ حق کا کام اجتماعی طور پر کیا جائے، ایک دوسرے کا سہارا بن کر۔
- نرمی اور حکمت: اگلی آیت میں حکم دیا گیا کہ فرعون سے نرمی سے بات کریں، تاکہ وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے۔ یہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ دعوت میں سختی نہیں، بلکہ محبت اور حکمت ہونی چاہیے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کا دین پہنچانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، چاہے مخاطب کتنا ہی بڑا ظالم یا سرکش کیوں نہ ہو۔ ہمیں اپنے گھر، معاشرے اور معاشرے کے بڑے لوگوں تک حق کا پیغام پہنچانا چاہیے، اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے کہ وہ ہماری کوششوں کو کامیابی عطا فرمائے گا۔
یاد رکھیں، جب اللہ کسی کام کا حکم دیتا ہے، تو وہ اپنے بندوں کی مدد کا وعدہ بھی کرتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اکیلا تھا، لیکن اللہ نے اسے اپنی تائید سے نوازا اور فرعون جیسے طاقتور بادشاہ کو ذلیل و خوار کر کے دکھایا۔ آج بھی جو لوگ اللہ کے دین کی خاطر اٹھتے ہیں، اللہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
📜 آیت 41-45 — طہ
ترجمہ — طہ 43
سورہ طہ آیت 43 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہےسورہ آیت 43/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 41–45. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








