انبیاء · 102/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ ۝١٠٢
Laa yasma`oona hasee sahaa wa hum fee mash tahat anfusuhum khaalidoon
📖 اردو ترجمہ
(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے۔ اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی) ہر طرح کے عیش اور لطف میں ہمیشہ رہیں گے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • حَسِیس: آوازِ خفیف، جیسے آگ کے شعلوں کی آواز یا جلنے کی آواز۔
  • اشْتَهَت: چاہا، خواہش کی۔
  • خَالِدُون: ہمیشہ رہنے والے، دائمی قیام کرنے والے۔

تفسیرِ آیہ:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اہلِ جنت کی اس عظیم نعمت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے کانوں تک جہنم کی آواز بھی نہیں پہنچے گی۔ یعنی جہنم کی ہولناک آوازیں، شعلوں کی چنگھاڑ اور اہلِ عذاب کی چیخیں، یہ سب کچھ ان سے بالکل دور ہوگا۔ وہ اس قدر امن و سکون میں ہوں گے کہ عذاب کا کوئی اثر، کوئی آہٹ، حتیٰ کہ اس کا خوف بھی انہیں نہیں چھوئے گا۔

یہ اللہ کا فضل ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو ایسی جگہ بسائے گا جہاں نہ کوئی خوف ہے، نہ غم، نہ کوئی پریشانی۔ وہ ہر اس چیز میں ہمیشہ رہیں گے جسے ان کے دل چاہیں گے، ہر وہ نعمت انہیں ملے گی جس کی انہوں نے خواہش کی ہوگی، اور یہ نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی، نہ ان میں کوئی کمی آئے گی۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ ان لذتوں اور راحتوں میں ڈوبے رہیں گے۔

یہ وہ انعام ہے جو اللہ نے اپنے مومن بندوں کے لیے تیار کیا ہے، اور یہ ان کی دنیوی نیکیوں اور صبر کا صلہ ہے۔ جس طرح دنیا میں انہوں نے اللہ کی اطاعت کی اور گناہوں سے بچے، اللہ انہیں ایسی جنت عطا فرمائے گا جس کی نعمتیں آنکھوں سے کبھی نہیں دیکھی گئیں، کانوں سے نہیں سنی گئیں، اور کسی دل نے ان کا تصور بھی نہیں کیا۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں اللہ کی رحمت اور اس کے وعدوں پر یقین کی دعوت دیتی ہے۔ جب ہم جانتے ہیں کہ اللہ نے اپنے مومن بندوں کے لیے ایسی عظیم نعمتیں تیار کی ہیں، تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھالیں۔ دنیا کی چند روزہ لذتیں اور عیش و آرام کبھی بھی جنت کی ابدی نعمتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے، وہ اس خوشخبری کا مستحق ہے کہ اسے ایسی جگہ ملے گی جہاں نہ کوئی خوف ہوگا، نہ غم، اور نہ ہی کوئی پریشانی۔ آئیے ہم اپنے اعمال کو سنواریں اور اس ابدی کامیابی کی طرف بڑھیں، کیونکہ یہی اصل کامیابی ہے۔



📜 آیت 100-104 — انبیاء

100لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
وہاں ان کو چلاّنا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے
101إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ
جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے۔ وہ اس سے دور رکھے جائیں گے
102لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ
(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے۔ اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی) ہر طرح کے عیش اور لطف میں ہمیشہ رہیں گے
103لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔ اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
104يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۚ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ
جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں۔ جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے۔ (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے۔ ہم (ایسا) ضرور کرنے والے ہیں
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
102آیت

ترجمہ — انبیاء 102

سورہ انبیاء آیت 102 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں…

سورہ آیت 102/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 100–104. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں