ترجمہ — Tafsir
یوم نطوی السماء کطی السجل للکتب۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کے ایک عظیم منظر کا ذکر فرما رہے ہیں۔ "السجل" سے مراد وہ صحیفہ یا طومار ہے جس پر کچھ لکھا ہوا ہو، اور "للكتب" کا مطلب ہے اس کے لکھے ہوئے مضامین کے لیے۔ یعنی جس طرح ایک لکھا ہوا طومار لپیٹا جاتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ آسمان کو لپیٹ دیں گے۔
اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح کوئی صحیفہ یا طومار لپیٹا جاتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کائنات فنا ہونے والی ہے اور اللہ کی قدرت کے آگے سب کچھ بے بس ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہم نے پہلی بار مخلوق کو پیدا کیا تھا، اسی طرح ہم اسے دوبارہ زندہ کریں گے۔ یہ وعدہ اللہ نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے، اور اللہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے۔
یہ آیت مومنین کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کرنے کا وعدہ دیا ہے۔ یہ وعدہ اس لیے ہے تاکہ نیک لوگوں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ ملے اور برے لوگوں کو ان کی برائیوں کی سزا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کامل ہے، وہ جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور اس کے لیے کسی چیز کا دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں آخرت پر یقین رکھنا چاہیے اور اپنی زندگی کو اس طرح گزارنا چاہیے کہ ہم اللہ کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیار رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے اور وہی ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا، اس لیے ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ خود کرنا چاہیے۔ یہ وعدہ اللہ کا ہے اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی عبادت کریں اور اس کی اطاعت میں اپنی زندگی گزاریں تاکہ اس دن ہم کامیاب ہو سکیں۔
📜 آیت 102-106 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 104
سورہ انبیاء آیت 104 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے…سورہ آیت 104/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 102–106. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








