انبیاء · 22/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ ۝٢٢
Law kaana feehimaaa aalihatun illal laahu lafasadataa; fa-Subhaanal laahi Rabbil `Arshi `ammaa yasifoon
📖 اردو ترجمہ
اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین وآسمان درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فِيهِمَا: ان دونوں میں، یعنی آسمانوں اور زمین میں۔
  • آلِهَةٌ: معبود، خدا، جن کی عبادت کی جائے۔
  • إِلَّا: یہاں "سِوَى" کے معنی میں ہے، یعنی "کے سوا"۔
  • لَفَسَدَتَا: تو وہ دونوں (آسمان اور زمین) بگڑ جاتے، تباہ ہو جاتے۔
  • فَسُبْحَانَ: پاک ہے، منزّہ ہے۔
  • الْعَرْشِ: عرش، بادشاہی کا تخت، جو اللہ کی عظمت کی نشانی ہے۔
  • عَمَّا يَصِفُونَ: اُن باتوں سے جو یہ (مشرک) بیان کرتے ہیں۔

تفسیر:

یہ آیت کریمہ توحید کی سب سے مضبوط دلیل اور شرک کی سب سے بڑی تردید پیش کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا اور بھی معبود ہوتے، جیسا کہ مشرکین کا خیال ہے، تو ان دونوں کا نظام درہم برہم ہو جاتا اور کائنات تباہ و برباد ہو جاتی۔ کیونکہ جب کئی معبود ہوں گے، تو ان کے درمیان باہمی کشمکش اور ٹکراؤ پیدا ہوگا، ہر ایک اپنا حکم چلانا چاہے گا، اور پھر کسی ایک کا حکم نافذ نہ ہو سکے گا۔ نتیجتاً نظامِ کائنات درہم برہم ہو جائے گا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کائنات انتہائی منظم، متوازن اور حسین انداز میں چل رہی ہے، سورج، چاند، ستارے، زمین اور آسمان سب ایک ہی ضابطے کے پابند ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کائنات کا مالک اور منتظم صرف ایک ہے، اور وہ ہے اللہ رب العرش العظیم۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنی پاک ذات کو اُن جھوٹی باتوں سے منزّہ قرار دیتا ہے جو مشرکین بیان کرتے ہیں، یعنی یہ کہ اللہ کے شریک ہیں، یا اللہ کی اولاد ہے، وغیرہ۔ اللہ ان تمام باتوں سے پاک اور بلند ہے۔ وہ واحد ہے، بے نیاز ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کا محتاج ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ جس طرح کائنات کا نظام ایک ہی خدا کے حکم سے چل رہا ہے، اسی طرح ہماری زندگیوں کا نظام بھی صرف اللہ کے حکم سے چلنا چاہیے۔ جب ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے سوا کسی اور کو معبود بناتے ہیں، یعنی اپنے نفس، اپنی خواہشات، مال، دولت، یا کسی انسان کو اپنا مرکز اور مقصود بنا لیتے ہیں، تو ہماری زندگیاں بھی بگڑ جاتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کئی معبودوں سے کائنات بگڑ جاتی۔ لیکن جب ہم اپنی زندگیاں اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں، تو ہمیں سکون، اطمینان اور برکت ملتی ہے۔ آئیے ہم اس عظیم حقیقت کو سمجھیں اور اپنے دلوں کو صرف اللہ کی محبت اور اطاعت سے بھریں، کیونکہ وہی واحد معبود ہے جس کی عبادت حق ہے، اور وہی ہماری کامیابی کی کنجی ہے۔



📜 آیت 20-24 — انبیاء

20يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ
رات دن (اُس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں
21أَمِ اتَّخَذُوا آلِهَةً مِّنَ الْأَرْضِ هُمْ يُنشِرُونَ
بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ ان کو (مرنے کے بعد) اُٹھا کھڑا کریں گے؟
22لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ
اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین وآسمان درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے
23لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ
وہ جو کام کرتا ہے اس کی پرستش نہیں ہوگی اور (جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی) ان سے پرستش ہوگی
24أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً ۖ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ ۖ هَٰذَا ذِكْرُ مَن مَّعِيَ وَذِكْرُ مَن قَبْلِي ۗ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ الْحَقَّ ۖ فَهُم مُّعْرِضُونَ
کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود بنالئے ہیں۔ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی ہیں۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
22آیت

ترجمہ — انبیاء 22

سورہ انبیاء آیت 22 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود…

سورہ آیت 22/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں