ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اتَّخَذَ: بنایا، قرار دیا
- وَلَدًا: بیٹا، اولاد
- سُبْحَانَهُ: وہ پاک ہے، اس کی ذات ہر عیب سے منزّہ ہے
- بَلْ: بلکہ (یہاں ردّ اور انکار کے لیے ہے)
- عِبَادٌ: بندے
- مُكْرَمُونَ: عزت والے، معزز، مقرب
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکینِ عرب کے اس باطل عقیدے کا رد فرمایا ہے جو انہوں نے اپنی جہالت اور گمراہی کی وجہ سے ایجاد کر رکھا تھا۔ مشرکین کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنی اولاد بنا لیا ہے، اور وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ یہ انتہائی گھٹیا اور باطل عقیدہ تھا جو ان کی جہالت اور اللہ تعالیٰ کی عظمت سے ناواقفیت کا نتیجہ تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی ذات کو پاک اور منزّہ قرار دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: "سُبْحَانَهُ" یعنی اللہ اس سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے بالکل منزّہ ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو، کیونکہ اولاد کا تصور کسی حاجت، کمزوری، یا شریک کی موجودگی کا متقاضی ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ تو ہر لحاظ سے بے نیاز، کامل اور یکتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے حقیقت واضح فرمائی: "بَلْ عِبَادٌ مُكْرَمُونَ" یعنی وہ فرشتے جنہیں مشرکین اللہ کی اولاد کہتے تھے، درحقیقت اللہ کے معزز اور مکرم بندے ہیں۔ وہ نہ اللہ کی اولاد ہیں اور نہ ہی ان میں کوئی الوہیت یا معبودیت کا پہلو ہے۔ وہ محض اللہ کے بندے ہیں، لیکن اتنے عزت والے اور مقرب بندے کہ اللہ نے انہیں اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ وہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں ہمیشہ مشغول رہتے ہیں، نہ انہیں اللہ کے حکم سے سرتابی کا خیال آتا ہے اور نہ وہ اللہ کی عبادت سے تھکتے ہیں۔
یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ہمارا تصور انتہائی پاکیزہ اور بلند ہونا چاہیے۔ ہمیں اللہ کے لیے کسی بھی ایسی صفت یا نسبت سے پرہیز کرنا چاہیے جو اس کی عظمت اور کمال کے شایانِ شان نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے، ہر کمزوری سے منزّہ ہے، اور اس کی ذات و صفات میں کوئی شریک نہیں۔
اس آیت سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے اللہ کے مقرب بندے ہیں، اور ان کی عزت و منزلت اللہ کے ہاں بہت بلند ہے۔ وہ اللہ کی اطاعت میں ہمیشہ مصروف رہتے ہیں اور اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔ یہ ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے کہ ہم بھی اللہ کی اطاعت اور عبادت میں اپنی زندگی گزارتے ہوئے اس کے مقرب بندوں میں شامل ہونے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توحید خالص پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان تمام باطل عقائد سے محفوظ رکھے جو اس کی ذات کے بارے میں گمراہ کن ہیں۔ آمین۔
📜 آیت 24-28 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 26
سورہ انبیاء آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے۔ وہ پاک…سورہ آیت 26/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








