انبیاء · 6/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ ۝٦
Maaa aaamanat qablahum min qaryatin ahlaknaahaa a-fahum yu`minoon
📖 اردو ترجمہ
ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لاتی تھیں۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • قَرْيَةٍ: بستی یا شہر کے رہنے والے۔
  • أَهْلَكْنَاهَا: ہم نے انہیں ہلاک کر دیا۔
  • أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ: کیا پھر یہ ایمان لائیں گے؟

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کفارِ مکہ کو مخاطب کر کے ان کے اس مطالبے کا جواب دے رہے ہیں جب انہوں نے کہا تھا کہ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمارے سامنے معجزات نہ آ جائیں، جیسے پہلی امتوں کے پاس آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے کفارِ مکہ! تم سے پہلے بہت سی بستیوں کے لوگ تھے جنہوں نے اپنے رسولوں سے معجزات کا مطالبہ کیا، اور جب وہ معجزات ان کے سامنے آ گئے تو بھی انہوں نے ایمان نہ لایا، بلکہ انہیں جھٹلایا، نتیجتاً ہم نے انہیں ہلاک کر دیا۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کیا یہ لوگ (کفارِ مکہ) اگر معجزات دیکھ لیں تو ایمان لے آئیں گے؟ ہرگز نہیں! یہ تو اس سے بھی زیادہ سرکش اور ضدی ہیں۔ ان کی فطرت میں جھٹلانا اور انکار ہی ہے، چنانچہ معجزات کا مطالبہ محض بہانہ ہے، حقیقت میں یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت سے اس امت پر یہ خصوصیت رکھی ہے کہ انہیں دنیا میں عذابِ استیصال (یعنی پوری قوم کو ہلاک کرنے والا عذاب) نہیں دیا جائے گا، بلکہ ان کے لیے آخرت کا عذاب مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اس لیے کفارِ مکہ کو وہ معجزات نہیں دیے گئے جو انہوں نے مطالبہ کیے تھے، کیونکہ اگر وہ معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لاتے تو ان پر بھی وہی عذاب آتا جو پہلی قوموں پر آیا، لیکن اللہ نے اس امت پر رحم فرمایا اور ان کے عذاب کو آخرت تک مؤخر کر دیا۔

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان لانے کے لیے معجزات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں اور ان کی تعلیمات پر ایمان لانا چاہیے۔ قرآن پاک خود ایک عظیم معجزہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گا، اور ہر دور کے انسانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس عظیم معجزے پر غور کریں اور اس پر عمل کر کے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچے دل سے ایمان لانے اور قرآن پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 4-8 — انبیاء

4قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے میرا پروردگار اسے جانتا ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
5بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ
بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہٴ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے
6مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لاتی تھیں۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے
7وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ ۖ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو
8وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ
اور ہم نے ان کے لئے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
6آیت

ترجمہ — انبیاء 6

سورہ انبیاء آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا…

سورہ آیت 6/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں