ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- نُکِسُوا: الٹے پھیر دیے گئے، اُلٹے سر کر دیے گئے۔
- عَلَىٰ رُءُوسِهِمْ: اپنے سروں کے بل، یعنی پہلے والی حالت کی طرف لوٹا دیے گئے۔
تفسیر:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی قوم کے سامنے بتوں کی بے وقعتی ثابت کرنے کے لیے انہیں توڑ دیا اور ان سے کہا کہ ان بتوں سے پوچھو کہ یہ سب کس نے کیا، تو قوم نے پہلے تو اپنے دلوں میں یہ محسوس کیا کہ واقعی یہ بت کچھ نہیں کر سکتے اور انہوں نے اپنے اوپر ظلم کا اعتراف بھی کیا۔ لیکن جلد ہی وہ اپنی اس ہوشیاری اور ایمان کی کیفیت سے پلٹ گئے اور اپنی پہلی حالت یعنی کفر اور عناد کی طرف لوٹ گئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا: "آپ تو خود جانتے ہیں کہ یہ بت بول نہیں سکتے، پھر آپ ہمیں ان سے پوچھنے کا کہہ رہے ہیں؟"
گویا انہوں نے یہ بات اپنی حجت کے طور پر کہی، لیکن حقیقت میں یہی بات ان کے خلاف حجت بن گئی۔ کیونکہ جب وہ خود اعتراف کر رہے تھے کہ یہ بت بول نہیں سکتے، تو پھر وہ ان کی عبادت کیوں کرتے تھے؟ یہ ان کی حماقت اور جہالت کا واضح ثبوت تھا۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ انسان جب حق کو جان لیتا ہے لیکن پھر بھی اسے ماننے سے انکار کر دیتا ہے، تو وہ اپنے خلاف خود حجت قائم کر لیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جب ہمیں حق واضح ہو جائے تو ہم فوراً اسے قبول کریں، ضد اور عناد نہ کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا انداز دیکھیں کہ وہ اپنی قوم کو دلیل سے سمجھا رہے تھے، اور آج بھی ہمارا فرض ہے کہ ہم لوگوں کو حکمت اور دلیل کے ساتھ حق کی طرف بلائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ضد اور عناد سے بچائے۔ آمین۔
📜 آیت 63-67 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 65
سورہ انبیاء آیت 65 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر (شرمندہ ہو کر) سر نیچا کرلیا (اس پر بھی…سورہ آیت 65/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 63–67. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








