ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَرَجَعُوا إِلَىٰ أَنفُسِهِمْ: یعنی وہ اپنے دلوں اور عقلوں کی طرف لوٹے، غور و فکر کیا۔
- الظَّالِمُونَ: ظلم کرنے والے، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف جانے والے۔
تفسیر:
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا، اور انہوں نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا، تو حضرت ابراہیم نے فرمایا: "بلکہ ان کے بڑے نے یہ کیا ہے، ان سے پوچھو اگر وہ بولتے ہیں۔" اس پر وہ لوگ شرمندہ ہوئے اور اپنے دلوں میں جھانک کر غور و فکر کرنے لگے۔ ان کی عقلوں نے انہیں جھنجھوڑا اور وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: "بے شک تم ہی ظالم ہو" — یعنی تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ان بے جان بتوں کی عبادت کر کے اپنے اوپر ظلم کیا، کیونکہ یہ بت نہ بول سکتے ہیں، نہ سن سکتے ہیں، نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ان کی فطرت نے انہیں للکارا، اور ان کے اندر کی آواز نے انہیں بتایا کہ وہ گمراہی پر ہیں۔ لیکن افسوس! انہوں نے اس حقیقت کو ماننے کے باوجود اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے، اور بعد میں پھر سے اپنے شرک کی طرف لوٹ گئے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ انسان جب اپنے دل کی آواز سنتا ہے اور اپنی عقل سے کام لیتا ہے، تو اسے سچائی نظر آ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطرت سلیمہ عطا کی ہے جو اسے حق کی طرف بلاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنے ضمیر کی آواز سنیں، اور اسے دبانے کی بجائے اس کی پیروی کریں۔ جب دل اور عقل مل کر فیصلہ کریں تو وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی عقلوں کو استعمال کریں اور اپنے دلوں کو قرآن کی روشنی سے منور کریں۔ آمین۔
📜 آیت 62-66 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 64
سورہ انبیاء آیت 64 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : انہوں نے اپنے دل غور کیا تو آپس میں کہنے…سورہ آیت 64/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 62–66. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








