انبیاء · 83/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
۞ وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ۝٨٣
Wa Ayyooba iz naadaa Rabbahooo annee massaniyad durru wa Anta arhamur raahimeen
📖 اردو ترجمہ
اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الضُّرّ: تکلیف، سختی، بیماری اور نقصان۔
  • أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ: سب سے زیادہ رحم کرنے والا، تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر مہربان۔

تفسیرِ آیہ:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر فرما رہے ہیں، جو صبر اور رحمتِ الٰہی کی امید کی اعلیٰ ترین مثال ہیں۔ جب انہیں سخت بیماری، مال و اولاد کے نقصان اور ہر قسم کی آزمائشوں کا سامنا تھا، تو انہوں نے اپنے رب کو پکارا اور کہا: "اے میرے رب! مجھے تکلیف اور سختی نے گھیر لیا ہے، اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔"

یہ دعا دراصل ان کے صبر کا اظہار ہے، نہ کہ شکوہ۔ انہوں نے اپنی پریشانی صرف اپنے خالق سے بیان کی، جو سب سے بڑا رحم فرمانے والا ہے۔ ان کا طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ مصیبت میں بھی اللہ سے امید نہیں چھوڑنی چاہیے، اور اس کی رحمت پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی یہ دعا ان کے عجز و انکسار اور اللہ پر مکمل بھروسے کی عکاس ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما کر انہیں شفا دی اور ان کی پہلے سے بہتر حالت میں واپس لوٹایا۔

دعوتی پہلو:

یہ واقعہ ہر مسلمان کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ جب بھی کوئی مشکل آئے، ہمیں فوراً اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ وہی ہے جو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی زندگی سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ صبر اور دعا ہی کامیابی کی کنجی ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کی پکار سنتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔ یہ ایمان کی مضبوطی ہے کہ ہم ہر حالت میں اللہ سے امید رکھیں اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو آزماتا ہے تاکہ ان کے درجات بلند کرے، اور جو صبر کرتا ہے، اسے بے حساب اجر عطا فرماتا ہے۔



📜 آیت 81-85 — انبیاء

81وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۚ وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ
اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں
82وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُ وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ
اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے
83۞ وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
84فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ ۖ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ
تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے
85وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ كُلٌّ مِّنَ الصَّابِرِينَ
اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل (کو بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
83آیت

ترجمہ — انبیاء 83

سورہ انبیاء آیت 83 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار…

سورہ آیت 83/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 81–85. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں