انبیاء · 84/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ ۖ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ ۝٨٤
Fastajabnaa lahoo fakashaf naa maa bihee min durrinw wa aatainaahu ahlahoo wa mislahum ma`ahum rahmatam min `indinaa wa zikraa lil`aabideen
📖 اردو ترجمہ
تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَاسْتَجَبْنَا لَهُ: ہم نے ان کی دعا قبول کی۔
  • ضُرّ: تکلیف، بیماری، مصیبت۔
  • آتَيْنَاهُ أَهْلَهُ: ہم نے انہیں ان کا گھرانہ واپس دیا۔
  • وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ: اور ان کے ساتھ اسی کے برابر اور بھی (بیوی، اولاد، مال) عطا کیا۔
  • رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا: یہ ہماری خاص رحمت اور فضل سے ہوا۔
  • ذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ: عبادت کرنے والوں کے لیے نصیحت اور سبق۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کے اس عظیم واقعے کا انجام بیان فرمایا ہے جب انہوں نے سخت ترین آزمائشوں میں صبر و استقامت کا پہاڑ بن کر اپنے رب کے حضور دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ان کی دعا کو قبول فرمایا، ان کی تمام تکالیف اور بیماریوں کو دور کر دیا، اور ان کے گھر والوں کو واپس لوٹا دیا۔ نہ صرف یہ کہ جو اہل و عیال ان سے بچھڑ گئے تھے انہیں لوٹایا، بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی مزید عطا فرمائے، تاکہ ان کی خوشی اور مسرت دوگنی ہو جائے۔ یہ سب کچھ اللہ کی خاص رحمت سے ہوا، اور اسے عبادت گزار بندوں کے لیے ایک عظیم سبق بنایا گیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ صبر کا انجام کبھی خالی نہیں ہوتا۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے برسوں کی بیماری اور مصیبت میں بھی اللہ سے شکایت نہیں کی، بلکہ صبر اور توکل کا دامن تھامے رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی عطا فرمائی۔ اے مسلمان بھائیو! جب تم پر کوئی مصیبت آئے تو گھبراؤ نہیں، اللہ سے دعا کرو اور صبر کرو۔ اللہ کی رحمت صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی آزمائش اس لیے کرتا ہے تاکہ ان کے درجات بلند کرے اور انہیں صبر کا اجر عظیم عطا فرمائے۔ جو لوگ اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں، ان کے لیے اللہ کی طرف سے بے حساب رحمتیں اور انعامات ہیں۔ آئیے ہم بھی حضرت ایوب علیہ السلام کی سیرت سے سبق حاصل کریں اور اپنی زندگیوں میں صبر و شکر کو اپنائیں تاکہ ہم بھی اللہ کی رحمت کے مستحق بن سکیں۔



📜 آیت 82-86 — انبیاء

82وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُ وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ
اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے
83۞ وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
84فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ ۖ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ
تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے
85وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ كُلٌّ مِّنَ الصَّابِرِينَ
اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل (کو بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے
86وَأَدْخَلْنَاهُمْ فِي رَحْمَتِنَا ۖ إِنَّهُم مِّنَ الصَّالِحِينَ
اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا۔ بلاشبہ وہ نیکوکار تھے
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
84آیت

ترجمہ — انبیاء 84

سورہ انبیاء آیت 84 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو…

سورہ آیت 84/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 82–86. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں