انبیاء · 82/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُ وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ ۝٨٢
Wa minash Shayaateeni mai yaghoosoona lahoo wa ya`maloona `amalan doona zaalika wa kunna lahum baafizeen
📖 اردو ترجمہ
اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • يَغُوصُونَ: غوطہ لگانا، سمندر کی گہرائی میں جانا (یہاں مراد موتی اور جواہرات نکالنے کے لیے غوطہ لگانا ہے
  • عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ: اس کے علاوہ دوسرے کام (جیسے تعمیرات اور دیگر صنعتی کام
  • حَافِظِينَ: نگہبان، محافظ (یعنی ہم انہیں قابو میں رکھتے تھے تاکہ وہ حکم کی خلاف ورزی نہ کریں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو جو عظیم سلطنت اور معجزاتی قدرت عطا فرمائی تھی، اس کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ اللہ نے جنات اور شیاطین کو ان کے تابع فرما دیا تھا۔ ان شیاطین میں سے کچھ ایسے تھے جو سمندر کے اندر غوطہ لگاتے تھے اور حضرت سلیمان کے لیے موتی، لعل اور دیگر قیمتی جواہرات نکال کر لاتے تھے۔ یہ کام عام انسانوں کے بس کا نہیں تھا، کیونکہ سمندر کی گہرائیوں میں جانا اور وہاں سے یہ نایاب چیزیں حاصل کرنا انتہائی مشکل اور خطرناک کام ہے۔

اس کے علاوہ یہ شیاطین حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے دوسرے کام بھی انجام دیتے تھے، جیسے عمارتیں بنانا، محلات تعمیر کرنا، اور مختلف صنعتی اور فنی مہارتوں کا استعمال کرنا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت سے تھا، کیونکہ اللہ نے ان شیاطین کو اس طرح قابو میں رکھا تھا کہ وہ حضرت سلیمان کے حکم کی مخالفت نہیں کر سکتے تھے، نہ وہ اپنے کام میں کسی قسم کی کوتاہی یا بگاڑ پیدا کر سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور ہم ان کے لیے نگہبان تھے"، یعنی ہماری حفاظت اور نگرانی میں وہ اپنے فرائض انجام دیتے تھے، اور ہماری قدرت نے انہیں مکمل طور پر مسخر کر رکھا تھا۔

یہ واقعہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت اور اپنے نیک بندوں پر اس کے فضل و کرم کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کو عزت دیتا ہے تو اسے ایسی طاقتیں اور وسائل عطا فرماتا ہے جو عام انسانوں کے بس سے باہر ہوتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی سبق ملتا ہے کہ اللہ کی حفاظت اور نگرانی میں رہنے والا شخص کبھی مغلوب نہیں ہوتا، چاہے اس کے سامنے کتنی ہی بڑی طاقتیں کیوں نہ ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی قدرت پر کامل یقین رکھیں اور اپنے معاملات میں اسی پر بھروسہ کریں، کیونکہ وہی ہر چیز پر قادر ہے اور اپنے بندوں کی حفاظت کرنے والا ہے۔



📜 آیت 80-84 — انبیاء

80وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ ۖ فَهَلْ أَنتُمْ شَاكِرُونَ
اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح) کا لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم کو لڑائی (کے ضرر) سے بچائے۔ پس تم کو شکرگزار ہونا چاہیئے
81وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۚ وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ
اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں
82وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُ وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ
اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے
83۞ وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
84فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ ۖ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ
تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
82آیت

ترجمہ — انبیاء 82

سورہ انبیاء آیت 82 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا…

سورہ آیت 82/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 80–84. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں