ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فِرْعَوْنَ: مصر کے بادشاہ کا لقب۔
- مَلَئِهِ: اس کے سردار، امرا اور معززین۔
- فَاسْتَكْبَرُوا: انہوں نے تکبر کیا، یعنی ایمان لانے سے سرکشی کی۔
- عَالِينَ: ظلم و زیادتی میں حد سے گزرنے والے، سرکش اور متکبر۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی حضرت ہارون علیہما السلام کو اپنی نو نشانیوں (معجزات) کے ساتھ فرعون اور اس کے اشرافِ قوم کی طرف بھیجا۔ یہ معجزات واضح دلیلیں تھیں جو سچے دل والوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنتیں اور ڈھٹائی کرنے والوں پر حجت قائم کرتیں۔ لیکن فرعون اور اس کے سرداروں نے ان معجزات کو دیکھنے کے باوجود ایمان لانے سے انکار کیا اور تکبر کیا۔ وہ لوگ اپنی قوم پر ظلم و جبر کرتے تھے، کمزوروں کو دباتے تھے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے۔ ان کا یہ رویہ ان کی ہلاکت کا سبب بنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں غرق کر کے عبرت کا نشان بنا دیا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ تکبر اور ظلم کسی قوم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ فرعون جیسی طاقت اور شان و شوکت کے باوجود اس کا انجام غرقابی تھا، کیونکہ اس نے حق کو قبول نہ کیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو عاجزی اور انکساری سے بھریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ متواضع لوگوں کو پسند کرتا ہے اور انہیں بلندی عطا کرتا ہے۔ جو لوگ حق کو قبول کرتے ہیں اور اللہ کے آگے جھک جاتے ہیں، وہی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں۔ آئیے ہم فرعون کے انجام سے سبق لیں اور اپنی زندگیوں میں تواضع اور حق کی پیروی کو اپنائیں، تاکہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کے مستحق بن سکیں۔
📜 آیت 44-48 — سورہ مؤمنون
ترجمہ — مؤمنون 46
سورہ مؤمنون آیت 46 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یعنی) فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، تو انہوں…سورہ آیت 46/118 — سورہ مؤمنون المؤمنون (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ مؤمنون سنیں, سورہ مؤمنون ترجمہ, سورہ مؤمنون mp3, سورہ مؤمنون pdf. آیت 44–48. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, September 8, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








