ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- دَابَّةٍ: زمین پر چلنے والی ہر مخلوق، جانور۔
- مِن مَّاءٍ: پانی سے، یعنی نطفے سے۔
- یَمْشِی: چلتا ہے۔
- بَطْنِهِ: اس کے پیٹ کے بل۔
- رِجْلَیْنِ: دو ٹانگوں پر۔
- أَرْبَعٍ: چار ٹانگوں پر۔
- قَدِیرٌ: ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی عظیم قدرت اور حکمت کا ایک شاندار نمونہ پیش فرمایا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ اللہ نے ہر چلنے پھرنے والی مخلوق کو پانی سے پیدا کیا ہے، یعنی ان سب کی تخلیق کا آغاز نطفے سے ہوا جو پانی ہی کی ایک صورت ہے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ پانی زندگی کی بنیاد ہے، جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ فرمایا: "اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے بنایا" (الانبیاء: 30)۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان مخلوقات کی مختلف اقسام بیان کیں:
- کچھ مخلوقات ایسی ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتی ہیں، جیسے سانپ، کیڑے مکوڑے اور رینگنے والے جانور۔
- کچھ ایسی ہیں جو دو ٹانگوں پر چلتی ہیں، جیسے انسان اور پرندے۔
- اور کچھ ایسی ہیں جو چار ٹانگوں پر چلتی ہیں، جیسے مویشی، گھوڑے، اونٹ اور دیگر چوپائے۔
یہ تنوع اپنے آپ میں اللہ کی قدرت کا ایک عظیم کرشمہ ہے۔ ایک ہی پانی سے اتنی مختلف شکلیں، انداز اور حرکات والی مخلوقات پیدا کرنا صرف اسی قادرِ مطلق کے بس کی بات ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے" یعنی اس کی مشیت کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں، وہ جس طرح چاہے، جس شکل میں چاہے، جس انداز میں چاہے پیدا کر سکتا ہے۔ اس نے ان مخلوقات کو پیدا کیا جو ہم دیکھتے ہیں، اور وہ بھی پیدا کر سکتا ہے جو ہم نے کبھی دیکھے ہی نہیں، اور نہ ان کا تصور بھی کر سکتے ہیں۔
آخر میں فرمایا: "بے شک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے" یہ ایک جامع اور مکمل دلیل ہے کہ جو ذات ان تمام متنوع مخلوقات کو پیدا کر سکتی ہے، وہ یقیناً ہر کام پر قادر ہے، چاہے وہ زندہ کرنا ہو، مارنا ہو، دوبارہ اٹھانا ہو یا کوئی اور چیز۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں کہ جس اللہ نے ایک ہی پانی سے اتنی متنوع مخلوقات پیدا کیں، کیا وہ اس قابل نہیں کہ ہم اس کی عبادت کریں؟ کیا وہ ہمیں دوبارہ زندہ کر کے ہمارے اعمال کا حساب لے سکتا ہے؟ یقیناً وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ آیت ہمیں اللہ کی قدرت پر ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ اس کی تخلیق میں کوئی نقص نہیں، کوئی بے ترتیبی نہیں۔ جس طرح اس نے ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے مطابق چلنے کا طریقہ دیا، اسی طرح اس نے ہر انسان کے لیے اس کی زندگی کا راستہ بھی مقرر کیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس کی قدرت اور حکمت پر غور کریں اور اپنی زندگیوں کو اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلائیں، کیونکہ وہی ہمارا خالق، مالک اور پروردگار ہے۔
📜 آیت 43-47 — نور
ترجمہ — نور 45
سورہ نور آیت 45 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو…سورہ آیت 45/64 — نور النور (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نور سنیں, نور ترجمہ, نور mp3, نور pdf. آیت 43–47. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








