ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَذَرُونَ: چھوڑ دیتے ہو، ترک کر دیتے ہو۔
- مِنْ أَزْوَاجِكُمْ: اپنی بیویوں میں سے، جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں۔
- عَادُونَ: حد سے تجاوز کرنے والے، ظلم و زیادتی کرنے والے۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم کو ان کے قبیح فعل پر ملامت فرما رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو؟ اور تم اس چیز کو ترک کر دیتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے پیدا کی ہے، یعنی تمہاری بیویاں، تاکہ تم ان سے حلال طریقے سے اپنی خواہشات پوری کرو اور نسلِ انسانی کو آگے بڑھاؤ۔ یہ وہ فطرت ہے جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو پاکیزگی، سکون اور رحمت کا باعث ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بلکہ تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو" یعنی تم نے حلال کو چھوڑ کر حرام کو اختیار کیا، اور اللہ کی مقرر کردہ حدود سے نکل گئے۔ یہ کوئی معمولی گناہ نہیں، بلکہ یہ فطرتِ انسانی کے خلاف ہے، اور اس سے معاشرے میں بے حیائی، بیماریاں اور اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ نے جو حلال چیزیں ہمارے لیے پیدا کی ہیں، وہی ہمارے لیے بہترین اور پاکیزہ ہیں۔ شیطان ہمیشہ انسان کو حلال سے روک کر حرام کی طرف لے جاتا ہے، تاکہ اسے اللہ کی رحمت سے دور کر دے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے مقرر کردہ حدود کا خیال رکھیں، حلال کو اپنائیں اور حرام سے بچیں۔ یہی تقویٰ ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی رحمت سے نوازے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلائے۔ آمین۔
📜 آیت 164-168 — شعراء
ترجمہ — شعراء 166
سورہ آیت 166/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 164–168. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








