ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَئِن لَّمْ تَنتَهِ: اگر تو باز نہ آیا
- لَتَکُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِینَ: ضرور تجھے نکالے جانے والوں میں سے ہوگا
تفسیر:
قومِ لوط علیہ السلام کی طرف سے یہ سخت گیر اور دھمکی آمیز کلام ہے۔ جب حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں اس قبیح فعل سے روکنے کی کوشش کی اور ان کے اس ناپاک رویے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو انہوں نے بے باک ہو کر کہا: "اے لوط! اگر تو نے اپنی اس نصیحت اور ملامت سے باز نہ آیا، تو ہم تجھے اس بستی سے ضرور نکال باہر کریں گے۔" یہ تہدید اس لیے تھی کہ وہ اپنے نبی کو جلاوطن کر کے اپنے گناہوں میں ملوث رہنا چاہتے تھے۔ وہ حق کو سننا اور قبول کرنا نہیں چاہتے تھے، بلکہ حق گو کو ہی خاموش کرنے اور نکال باہر کرنے پر تلے ہوئے تھے۔
یہ وہی روش ہے جو ہر دور میں باطل کے پیروکار اپناتے ہیں۔ جب انہیں حق کی دعوت اور اصلاح کی کوشش ناگوار گزرتی ہے تو وہ داعیِ حق کو دھمکیاں دیتے ہیں، اسے بدنام کرتے ہیں اور اسے اپنے علاقے سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی حفاظت فرماتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام کا یہ مقامِ صبر و استقامت ہمیں سکھاتا ہے کہ حق پر قائم رہنا چاہیے، چاہے مخالفین کی تعداد کتنی ہی زیادہ ہو اور ان کی دھمکیاں کتنی ہی سخت کیوں نہ ہوں۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اہلِ ایمان کو کبھی بھی باطل کی دھمکیوں سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ اللہ کی راہ میں دعوت دینے والوں کو صبر اور یقین کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کے ساتھ ہوتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ آخر کار حق ہی غالب آتا ہے اور باطل کا خاتمہ ہو جاتا ہے، جیسا کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا انجام ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 165-169 — شعراء
ترجمہ — شعراء 167
سورہ شعراء آیت 167 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ کہنے لگے کہ لوط اگر تم باز نہ آؤ…سورہ آیت 167/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 165–169. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








