ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا: ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی۔
- فَسَاءَ: پس بہت برا تھا۔
- مَطَرُ الْمُنذَرِينَ: ان لوگوں کی بارش جنہیں (عذاب سے) ڈرایا گیا تھا۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط کے انجام کو بیان فرمایا ہے۔ جب حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو بدکاری اور فحاشی سے منع کیا اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا، تو انہوں نے نہ صرف انکار کیا بلکہ اپنے گناہوں پر اصرار کرتے رہے۔ آخر کار اللہ کا عذاب آیا اور ان پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسائی گئی۔ یہ بارش عام بارش کی طرح نہ تھی، بلکہ پکی ہوئی مٹی کے پتھر تھے جو ان پر مسلسل گرتے رہے، یہاں تک کہ انہیں ہلاک کر کے رکھ دیا۔
یہ عذاب صرف ان لوگوں پر نہیں آیا جو براہِ راست بدکاری میں ملوث تھے، بلکہ ان تمام لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا جو ان کے ساتھ تھے یا ان کے فعل پر راضی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے "مطر السوء" یعنی بری بارش قرار دیا، کیونکہ یہ رحمت کی بارش نہیں بلکہ عذاب کی بارش تھی۔
دعوتی پہلو:
اس واقعہ میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ جب کوئی قوم اپنے نبی کی دعوت کو ٹھکرا دیتی ہے اور گناہوں پر اصرار کرتی ہے، تو اللہ کا عذاب ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکامات پر عمل کریں، اپنے نفس کو پاک رکھیں اور ان برائیوں سے بچیں جن کی وجہ سے پہلی قومیں ہلاک ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توبہ کی توفیق دے اور ہمیں اپنے عذاب سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 171-175 — شعراء
ترجمہ — شعراء 173
سورہ شعراء آیت 173 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان پر مینھہ برسایا۔ سو جو مینھہ ان (لوگوں)…سورہ آیت 173/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 171–175. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








