ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَأُلْقِيَ: یعنی وہ (ساحر) گرائے گئے، جیسے کوئی چیز زور سے نیچے ڈال دی جائے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ خود پر قابو نہ رکھ سکے اور بے اختیار سجدے میں گر پڑے۔
- السَّحَرَةُ: جادوگر، جو فرعون کے کہنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے آئے تھے۔
- سَاجِدِينَ: سجدہ کرنے والے، اللہ کے آگے سر جھکانے والے۔
تفسیر:
جب ساحروں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی ان کے تمام جادوئی سامان اور ڈالی ہوئی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل رہی ہے، اور یہ کوئی شعبدہ بازی یا جادو کا کرشمہ نہیں بلکہ اللہ کی قدرت کا معجزہ ہے، تو ان کے دلوں پر حقیقت کا ایسا اثر ہوا کہ وہ خود پر قابو نہ رکھ سکے۔ وہ بے اختیار ہو کر سجدے میں گر گئے۔ یہ سجدہ محض ایک رسمی یا دکھاوا نہیں تھا، بلکہ ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی پھوٹ پڑی تھی اور انہوں نے یقین کر لیا تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے حقیقی معجزہ ہے، جادو نہیں۔
یہ منظر انتہائی حیرت انگیز اور سبق آموز ہے۔ وہ لوگ جو صبح تک فرعون کے حکم پر موسیٰ علیہ السلام کے خلاف جادو کے ذریعے مقابلہ کرنے آئے تھے، شام تک ایمان کی دولت سے مالا مال ہو کر سجدے میں گر گئے۔ انہوں نے حق کو پہچان لیا اور باطل کو چھوڑ دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب دل صاف ہو اور سچائی سامنے آ جائے تو انسان بلا جھجک اسے قبول کر لیتا ہے، چاہے اسے کتنی ہی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کبھی چھپا نہیں رہتا، اور اللہ کی قدرت کا جلوہ جب ظاہر ہوتا ہے تو باطل کی تمام قوتیں دم توڑ دیتی ہیں۔ ساحروں کا یہ ایمان لانا اور سجدے میں گرنا ہمیں بتاتا ہے کہ انسان جب سچائی کو دل سے پہچان لے تو اسے قبول کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو ہر قسم کے تعصب اور ہٹ دھرمی سے پاک رکھیں، تاکہ جب ہمارے سامنے حق آئے تو ہم اسے فوراً قبول کر لیں اور اللہ کے آگے سر جھکا دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔
📜 آیت 44-48 — شعراء
ترجمہ — شعراء 46
سورہ شعراء آیت 46 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تب جادوگر سجدے میں گر پڑےسورہ آیت 46/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 44–48. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








