ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آمَنَّا: ہم ایمان لائے، ہم نے یقین کیا۔
- رَبِّ الْعَالَمِينَ: تمام جہانوں کا پروردگار، یعنی ساری مخلوقات کا خالق، مالک اور پالنے والا۔
تفسیر:
جب ساحروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو دیکھا، اور انہوں نے محسوس کیا کہ یہ کوئی جادو یا شعبدہ بازی نہیں بلکہ حق اور سچائی کا ظہور ہے، تو ان کے دلوں پر ایمان کی روشنی چمک اٹھی۔ وہ فوراً سجدے میں گر گئے اور زبان حال سے پکار اٹھے: "ہم ایمان لائے رب العالمین پر!" یعنی ہم اس رب پر ایمان لائے جو تمام مخلوقات کا خالق ہے، جو آسمانوں اور زمینوں کا مالک ہے، جو ہر چیز کو پالنے اور سنبھالنے والا ہے۔ یہ ایمان محض زبانی دعویٰ نہیں تھا، بلکہ انہوں نے اپنے رب کی عظمت کو دل سے محسوس کیا اور اپنے خالق کے سامنے سر جھکا دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اس رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے، یعنی وہی رب جو انبیاء کو نبوت عطا کرتا ہے اور انہیں ہدایت کی راہ دکھاتا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کو قبول کرنے میں کبھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ ساحر بھی اگرچہ باطل کے پیشہ ور تھے، لیکن جب انہوں نے حق کو واضح طور پر دیکھ لیا تو انہوں نے فوراً اپنے باطل کو چھوڑ دیا اور ایمان لے آئے۔ یہ ایمان کی خوبصورتی ہے کہ یہ دل کو روشن کر دیتا ہے اور انسان کو دنیا کی ہر چیز سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ جب ہمارے سامنے حق واضح ہو جائے تو ہم بلا جھجک اسے قبول کریں، چاہے ہمیں دنیا میں کچھ بھی کھونا پڑے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرے۔ آمین۔
📜 آیت 45-49 — شعراء
ترجمہ — شعراء 47
سورہ شعراء آیت 47 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اور) کہنے لگے کہ ہم تمام جہان کے مالک پر…سورہ آیت 47/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 45–49. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








