ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَلْقَفُ: نگل جانا، جلدی سے پکڑ کر کھا لینا۔
- یَأْفِکُونَ: جھوٹ اور فریب سے کام لینا، حقیقت کو الٹ کر پیش کرنا۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی عصا مبارک میدانِ مقابلہ میں ڈالی تو وہ اللہ کے حکم سے ایک عظیم سانپ بن گئی۔ وہ سانپ تیزی سے ان جھوٹے ساحروں کے بنائے ہوئے جالوں کی طرف بڑھا اور ان کے تمام جادوئی سامان کو نگلنے لگا۔ ساحروں نے اپنے جادو کے ذریعے رسیوں اور لاٹھیوں کو سانپوں کی شکل دکھائی تھی، لیکن حضرت موسیٰ کی عصا نے ان سب کو حقیقت میں نگل لیا۔ یہ منظر دیکھ کر ساحروں کو یقین ہو گیا کہ یہ کوئی جادو نہیں بلکہ اللہ کی قدرت کا معجزہ ہے، کیونکہ جادو تو صرف دکھاوا ہوتا ہے جبکہ یہ حقیقت تھی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ کا دین ہمیشہ سچائی اور صداقت پر مبنی ہوتا ہے، اور باطل چاہے کتنا ہی طاقتور اور پُرفریب کیوں نہ ہو، آخرکار اللہ کے حکم سے مٹ جاتا ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ کی عصا نے جادوگروں کے تمام فریب کو نگل لیا، اسی طرح اللہ کی مدد سے حق ہمیشہ باطل پر غالب آتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان پر مضبوط رہیں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سچائی اور اللہ پر بھروسہ ہی اصل کامیابی کا راستہ ہے، اور باطل کی عظمت صرف وقتی ہوتی ہے۔
📜 آیت 43-47 — شعراء
ترجمہ — شعراء 45
سورہ شعراء آیت 45 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان چیزوں…سورہ آیت 45/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 43–47. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








