Wa maa kunta bijaanibit Toori iz naadainaa wa laakir rahmatam mir Rabbika litunzira qawmam maaa ataahum min nazeerim min qablika la`allahum yatazakkaroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور نہ تم اس وقت جب کہ ہم نے (موسٰی کو) آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ (تمہارا بھیجا جانا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ تم اُن لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کرو تاکہ وہ نصیحت پکڑیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
تو در كنار طور نبودى آنگاه كه موسى را ندا در داديم. ولى اين رحمتى است از جانب پروردگارت تا مردمى را كه پيش از تو بيمدهندهاى نداشتند، بيم دهى. باشد كه پندپذير شوند.
الطور: وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا۔
نادیٰنا: ہم نے پکارا (یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مناجات کے لیے بلایا)۔
نذیر: ڈرانے والا، خبردار کرنے والا رسول۔
یتذکرون: نصیحت حاصل کریں، سوچیں اور سمجھیں۔
تفسیر:
اے محبوب نبی! آپ جبل طور کے پاس موجود نہ تھے جب ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پکارا تھا اور انہیں مناجات کے لیے بلایا تھا۔ آپ نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، نہ وہاں حاضر تھے کہ یہ واقعات خود معلوم کر لیتے۔ لیکن یہ سب کچھ آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت ہے کہ اس نے وحی کے ذریعے آپ کو یہ تمام پوشیدہ باتیں بتا دیں۔
یہ وحی آپ پر اس لیے نازل کی گئی کہ آپ ایک ایسی قوم کو ڈرائیں اور خبردار کریں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی نذیر اور رسول نہیں آیا تھا۔ یہ اہلِ مکہ تھے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد سے رسولوں کی آمد کے سلسلے میں ایک طویل وقفے (فترت) میں تھے۔ ان کے پاس کوئی ایسا شخص نہیں آیا تھا جو انہیں اللہ کا پیغام پہنچائے اور برائی سے ڈرائے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کو اس لیے بھیجا تاکہ وہ ان لوگوں کو راہِ راست دکھائیں، انہیں نیکی کی تلقین کریں اور برائی سے بچنے کی دعوت دیں، تاکہ وہ غور و فکر کریں، نصیحت حاصل کریں اور اپنے خالق کو پہچان کر اس کی عبادت کریں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت کا منظر دکھاتی ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر اتنا بڑا احسان کیا کہ ان کے پاس اپنا محبوب رسول بھیجا، حالانکہ وہ اس کے مستحق نہیں تھے۔ یہ خالص اللہ کا فضل ہے جو وہ جس پر چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس عظیم نعمت یعنی قرآن اور سنت کی قدر کریں، اس پر عمل کریں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو علم اور ہدایت دی ہے، یہ کوئی معمولی بات نہیں، یہ تو رحمتِ الٰہی کا نتیجہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس رحمت کے شکر گزار بنیں اور اپنی زندگیوں کو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔
اور نہ تم اس وقت جب کہ ہم نے (موسٰی کو) آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ (تمہارا بھیجا جانا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ تم اُن لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کرو تاکہ وہ نصیحت پکڑیں
لیکن ہم نے (موسٰی کے بعد) کئی اُمتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گذر گئی اور نہ تم مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے
اور نہ تم اس وقت جب کہ ہم نے (موسٰی کو) آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ (تمہارا بھیجا جانا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ تم اُن لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کرو تاکہ وہ نصیحت پکڑیں
اور (اے پیغمبر ہم نے تو کو اس لئے بھیجا ہے کہ) ایسا نہ ہو کہ اگر ان (اعمال) کے سبب جو اُن کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت واقع ہو تو یہ کہنے لگیں کہ اے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں ہوتے
پھر جب اُن کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہنے لگے کہ جیسی (نشانیاں) موسٰی کو ملی تھیں ویسی اس کو کیوں نہیں ملیں۔ کیا جو (نشانیاں) پہلے موسٰی کو دی گئی تھیں اُنہوں نے اُن سے کفر نہیں کیا۔ کہنے لگے کہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔ اور بولے کہ ہم سب سے منکر ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔