جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے غضب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہلِ دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَن تُغْنِيَ: ہرگز کفایت نہیں کریں گے، نہ بچا سکیں گے، نہ دفع کر سکیں گے۔
مِّنَ اللهِ: اللہ کے عذاب سے، اللہ کے پاس سے۔
أَصْحَابُ النَّارِ: دوزخ والے، جہنمی۔
خَالِدُونَ: ہمیشہ رہنے والے، دائمی طور پر قیام پذیر۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کے انجام سے آگاہ فرما رہے ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ ان کے پاس جو کچھ بھی ہے — مال، دولت، اولاد، بیٹے اور بیٹیاں — یہ سب کچھ اللہ کے عذاب سے انہیں ذرا بھی نہ بچا سکے گا۔ نہ ان کے اموال ان کی طرف سے فدیہ بن سکیں گے، نہ ان کی اولاد ان کی مدد کے لیے آگے بڑھ سکے گی۔ یہ چیزیں نہ تو اللہ کا عذاب ان سے ٹال سکیں گی اور نہ ہی ان کے لیے اللہ کی رحمت کا کوئی ذریعہ بن سکیں گی۔ بلکہ یہی مال اور اولاد ان کے لیے عذاب اور حسرت کا باعث بنیں گے، کیونکہ وہ انہی چیزوں پر فخر کرتے تھے اور انہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے، مگر قیامت کے دن یہ سب ان سے جدا ہو جائیں گے اور وہ بالکل بے یار و مددگار رہ جائیں گے۔
یہ لوگ حقیقت میں دوزخ کے رہنے والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، کبھی باہر نہیں نکل سکیں گے۔ یہ دائمی عذاب ان کے کفر اور سرکشی کا بدلہ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز — چاہے وہ کتنی ہی بڑی دولت ہو، کتنے ہی طاقتور بیٹے ہوں، کتنی ہی بڑی اولاد ہو — اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنی دولت اور اولاد پر کس قدر نازاں ہیں، انہیں اپنی طاقت اور وسائل پر بھروسہ ہے، لیکن یہ سب کچھ اس دن کام نہ آئے گا جب اللہ کے سامنے پیشی ہوگی۔
مومن کو چاہیے کہ وہ اپنا بھروسہ صرف اللہ پر رکھے، اپنے مال اور اولاد کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے، انہیں اللہ کی اطاعت کا ذریعہ بنائے، نہ کہ غرور اور سرکشی کا۔ یاد رکھیں! اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اللہ کے احکام پر عمل کریں، اس کے رسول ﷺ کی پیروی کریں، اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔ ورنہ انجام وہی ہوگا جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے — دائمی جہنم۔ اللہ ہمیں اس سے بچائے اور ہمیں سیدھی راہ پر چلائے۔ آمین۔
یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں
مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں
سورہ آل عمران آیت 116 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا…
سورہ آیت 116/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 114–118. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔