آل عمران · 159/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ ۝١٥٩
Fabimaa rahmatim minal laahi linta lahum wa law kunta fazzan ghaleezal qalbi lanfaddoo min hawlika fafu `anhum wastaghfir lahum wa shaawirhum fil amri fa izaa `azamta fatawakkal `alal laah; innallaaha yuhibbul mutawak kileen
📖 اردو ترجمہ
(اے محمدﷺ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے۔ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو۔ اور اپنے کاموں میں ان سے مشورت لیا کرو۔ اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسا رکھو۔ بےشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَبِمَا رَحْمَةٍ: پس اس رحمت کی وجہ سے۔
  • لِنتَ لَهُمْ: آپ ان کے لیے نرم دل ہو گئے۔
  • فَظًّا: سخت کلام کرنے والا، بد اخلاق۔
  • غَلِيظَ الْقَلْبِ: سخت دل، جس میں رحم و نرمی نہ ہو۔
  • لَانفَضُّوا: تو وہ ضرور آپ کے پاس سے بکھر جاتے اور الگ ہو جاتے۔
  • فَاعْفُ عَنْهُمْ: تو انہیں معاف کر دیجیے۔
  • وَشَاوِرْهُمْ: اور ان سے مشورہ لیجیے۔
  • عَزَمْتَ: جب آپ نے پختہ ارادہ کر لیا۔
  • تَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ: اللہ پر بھروسہ کیجیے۔

تفسیر:

اے نبیِ رحمت! یہ آپ کا نرم مزاج اور شفیق اخلاق اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کا نتیجہ تھا، ورنہ اگر آپ سخت کلام کرنے والے اور سنگدل ہوتے تو صحابہ کرام آپ کے گرد جمع نہ رہتے اور آپ سے بکھر جاتے۔ یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے آپ کو نرمی اور محبت عطا فرمائی، جس کی وجہ سے لوگ آپ کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دیتا ہے کہ اے نبی! اپنے صحابہ کے ان قصّوں کو معاف فرما دیجیے جو جنگِ اُحد میں پیش آئے، اور ان کے لیے دعائے مغفرت کیجیے۔ نیز ان سے مشورہ لیتے رہیے، خاص طور پر معاملاتِ جنگ اور امورِ دنیا میں، تاکہ ان کے دلوں کو خوشی اور اطمینان حاصل ہو۔ مشورہ کرنا آپ کی امت کے لیے ایک عظیم درس ہے کہ باہمی مشاورت سے فیصلے کیے جائیں۔

لیکن جب آپ مشورہ کر لیں اور کسی بات پر پختہ ارادہ کر لیں، تو پھر اللہ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس پر توکل کرتے ہیں، اور وہ ان کی مدد و نصرت فرماتا ہے۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ نرمی اور محبت سے لوگوں کے دلوں کو جیتا جا سکتا ہے، اور مشورہ کرنا اسلامی طرزِ حکمرانی کا اہم اصول ہے۔ نیز کسی کام کا فیصلہ کرنے کے بعد اللہ پر بھروسہ رکھنا کامیابی کی کنجی ہے۔ آئیے ہم بھی اپنی زندگی میں نرمی، معاف کرنے اور مشورہ کرنے کے اسوۂ حسنہ پر عمل کریں، اور ہر معاملے میں اللہ پر توکل کریں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 157-161 — آل عمران

157وَلَئِن قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ
اور اگر تم خدا کے رستے میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو جو (مال و متاع) لوگ جمع کرتے ہیں اس سے خدا کی بخشش اور رحمت کہیں بہتر ہے
158وَلَئِن مُّتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لَإِلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ
اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکھٹے کئے جاؤ گے
159فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
(اے محمدﷺ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے۔ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو۔ اور اپنے کاموں میں ان سے مشورت لیا کرو۔ اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسا رکھو۔ بےشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے
160إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِي يَنصُرُكُم مِّن بَعْدِهِ ۗ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
اور خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں
161وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
159آیت

ترجمہ — آل عمران 159

سورہ آل عمران آیت 159 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اے محمدﷺ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان…

سورہ آیت 159/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 157–161. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں