آل عمران · 46/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
وَيُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِي ٱلۡمَهۡدِ وَكَهۡلًا وَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ  ۝٤٦
Wa yukallimun naasa filmahdi wa kahlanw wa minassaaliheen
📖 اردو ترجمہ
اور ماں کی گود میں اور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فِي الْمَهْدِ: گہوارے میں، بچپن کی حالت میں۔
  • کَهْلًا: جوانی کی عمر کو پہنچا ہوا، ادھیڑ عمر (تیس سے پچاس سال کے درمیان
  • الصَّالِحِینَ: نیک اور صالح بندے۔

تفسیرِ آیہ:

یہ آیت کریمہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات اور ان کی بلند مرتبت کا بیان کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دو خاص حالات میں لوگوں سے کلام کرنے کی قدرت عطا فرمائی:

پہلا معجزہ: وہ گہوارے میں بچپن کی حالت میں لوگوں سے بات کریں گے، جب کہ عام طور پر نوزائیدہ بچہ بولنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ اللہ کی قدرت کا ایک عظیم معجزہ تھا، جس سے ان کی پاکیزگی اور سچائی ثابت ہوئی۔

دوسرا معجزہ: وہ کہولت (جوانی اور ادھیڑ عمر) میں بھی لوگوں سے کلام کریں گے، لیکن یہ کلام محض انسانی گفتگو نہیں ہوگی، بلکہ یہ نبوت اور رسالت کا کلام ہوگا، جس کے ذریعے وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں گے اور ان کی دین و دنیا کی بہتری کے لیے رہنمائی کریں گے۔

یہ بھی واضح رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا تھا، اور وہ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے، اس وقت وہ کہولت کی عمر میں ہوں گے اور لوگوں سے کلام کریں گے۔

تیسری صفت: اللہ تعالیٰ نے انہیں "صالحین" میں شمار کیا ہے، یعنی وہ ان نیک بندوں میں سے ہیں جن کے اقوال اور اعمال دونوں صالح اور درست ہیں۔ یہ ان کی پاکیزہ زندگی اور کامل اطاعتِ الٰہی کی شہادت ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازتا ہے، اور وہ اپنی قدرت سے ہر ممکن اور ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل کریں اور اپنی زندگی کو صالحین کی زندگی کے مطابق ڈھالیں۔ نیز، یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ نیکی اور صلاحیت کا تعلق عمر سے نہیں، بلکہ اللہ کی توفیق اور اخلاص سے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر عمر میں اللہ کی اطاعت کریں اور اپنے قول و فعل کو صالح بنائیں، تاکہ ہم بھی صالحین میں شمار ہوں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 44-48 — آل عمران

44ذَٰلِكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡغَيۡبِ نُوحِيهِ إِلَيۡكَۚ وَمَا كُنتَ لَدَيۡهِمۡ إِذۡ يُلۡقُونَ أَقۡلَٰمَهُمۡ أَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيۡهِمۡ إِذۡ يَخۡتَصِمُونَ 
(اے محمدﷺ) یہ باتیں اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں اور جب وہ لوگ اپنے قلم (بطور قرعہ) ڈال رہے تھے کہ مریم کا متکفل کون بنے تو تم ان کے پاس نہیں تھے اور نہ اس وقت ہی ان کے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے
45إِذۡ قَالَتِ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يَٰمَرۡيَمُ إِنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنۡهُ ٱسۡمُهُ ٱلۡمَسِيحُ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ وَجِيهًا فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَمِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ 
(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ ابن مریم ہوگا (اور) جو دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا
46وَيُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِي ٱلۡمَهۡدِ وَكَهۡلًا وَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ 
اور ماں کی گود میں اور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا
47قَالَتۡ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمۡ يَمۡسَسۡنِي بَشَرٌۖ قَالَ كَذَٰلِكِ ٱللَّهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ 
مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا کہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے
48وَيُعَلِّمُهُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَ 
اور وہ انہیں لکھنا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائے گا
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
46آیت

ترجمہ — آل عمران 46

سورہ آیت 46/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 44–48. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں