ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فِي الْمَهْدِ: گہوارے میں، بچپن کی حالت میں۔
- کَهْلًا: جوانی کی عمر کو پہنچا ہوا، ادھیڑ عمر (تیس سے پچاس سال کے درمیان)۔
- الصَّالِحِینَ: نیک اور صالح بندے۔
تفسیرِ آیہ:
یہ آیت کریمہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات اور ان کی بلند مرتبت کا بیان کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دو خاص حالات میں لوگوں سے کلام کرنے کی قدرت عطا فرمائی:
پہلا معجزہ: وہ گہوارے میں بچپن کی حالت میں لوگوں سے بات کریں گے، جب کہ عام طور پر نوزائیدہ بچہ بولنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ اللہ کی قدرت کا ایک عظیم معجزہ تھا، جس سے ان کی پاکیزگی اور سچائی ثابت ہوئی۔
دوسرا معجزہ: وہ کہولت (جوانی اور ادھیڑ عمر) میں بھی لوگوں سے کلام کریں گے، لیکن یہ کلام محض انسانی گفتگو نہیں ہوگی، بلکہ یہ نبوت اور رسالت کا کلام ہوگا، جس کے ذریعے وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں گے اور ان کی دین و دنیا کی بہتری کے لیے رہنمائی کریں گے۔
یہ بھی واضح رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا تھا، اور وہ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے، اس وقت وہ کہولت کی عمر میں ہوں گے اور لوگوں سے کلام کریں گے۔
تیسری صفت: اللہ تعالیٰ نے انہیں "صالحین" میں شمار کیا ہے، یعنی وہ ان نیک بندوں میں سے ہیں جن کے اقوال اور اعمال دونوں صالح اور درست ہیں۔ یہ ان کی پاکیزہ زندگی اور کامل اطاعتِ الٰہی کی شہادت ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازتا ہے، اور وہ اپنی قدرت سے ہر ممکن اور ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل کریں اور اپنی زندگی کو صالحین کی زندگی کے مطابق ڈھالیں۔ نیز، یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ نیکی اور صلاحیت کا تعلق عمر سے نہیں، بلکہ اللہ کی توفیق اور اخلاص سے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر عمر میں اللہ کی اطاعت کریں اور اپنے قول و فعل کو صالح بنائیں، تاکہ ہم بھی صالحین میں شمار ہوں۔
📜 آیت 44-48 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 46
سورہ آیت 46/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 44–48. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








