Wa wassainal bi waalidaihi hamalat hu ummuhoo wahnan `alaa wahninw wa fisaaluhoo fee `aamaini anishkur lee wa liwaalidaika ilaiyal maseer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے انسان کو جسے اُس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اُٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور (آخرکار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آدمى را درباره پدر و مادرش سفارش كرديم. مادرش به او حامله شد و هر روز ناتوانتر مىشد و پس از دو سال از شيرش باز گرفت. و سفارش كرديم كه: مرا و پدر و مادرت را شكر گوى كه سرانجام تو نزد من است،
وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ: کمزوری پر کمزوری، یعنی ماں پر حمل کے دوران مشقت کے بعد مشقت آتی رہی۔
فِصَالُهُ: اس کا دودھ چھڑانا۔
الْمَصِيرُ: لوٹ کر جانے کی جگہ، یعنی آخرت۔
تفسیر آیت:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور بھلائی کی تاکید کی ہے، کیونکہ والدین ہی وہ ذریعہ ہیں جن کے ذریعے اللہ نے انسان کو اس دنیا میں وجود بخشا۔ اس تاکید میں خاص طور پر ماں کی مشقتوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے پیٹ میں بچے کو نو مہینے تک اٹھائے رکھا، اور اس دوران اس پر کمزوری پر کمزوری آتی رہی — حمل کی کمزوری، ولادت کی کمزوری، اور پھر پرورش کی کمزوری۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک بچہ دودھ نہ چھڑا لیا گیا، اور یہ مدت دو سال مکمل ہوتی ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو حکم دیا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرے، اور پھر اپنے والدین کا شکر بجا لائے، کیونکہ والدین کی محنت اور قربانیاں اللہ کی نعمتوں کا ایک ذریعہ ہیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اور وہی ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ اللہ کا براہِ راست حکم ہے۔ جس طرح اللہ نے اپنے شکر کا حکم دیا، اسی طرح والدین کے شکر کا بھی حکم دیا، کیونکہ والدین کی رضا اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔ اگر ہم والدین کی خدمت کریں گے تو اللہ ہماری زندگیوں میں برکتیں نازل فرمائے گا، اور آخرت میں بھی ہمیں بہترین اجر ملے گا۔ یاد رکھیں، والدین کی دعا اولاد کے حق میں بہترین سرمایہ ہے، اور ان کی ناراضگی دنیا و آخرت دونوں میں نقصان کا باعث بنتی ہے۔ آئیے ہم اپنے والدین کی خدمت کو اپنی زندگی کا اہم ترین مقصد بنائیں، اور ان کے ساتھ نرمی، محبت اور احترام کا برتاؤ کریں، تاکہ ہم اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے مستحق بن سکیں۔
اور ہم نے انسان کو جسے اُس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اُٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور (آخرکار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے
اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی۔ کہ خدا کا شکر کرو۔ اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے۔ اور جو ناشکری کرتا ہے تو خدا بھی بےپروا اور سزاوار حمد (وثنا) ہے
اور ہم نے انسان کو جسے اُس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اُٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور (آخرکار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے
اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے رستے پر چلنا پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا
(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں۔ خدا اُس کو قیامت کے دن لاموجود کرے گا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔