لقمان · 15/34
ترجمہ تلفظ — لقمان
وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ۚ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۝١٥
Wa in jaahadaaka `alaaa an tushrika bee maa laisa laka bihee `ilmun falaa tuti`humaa wa saahib humaa fid dunyaa ma`roofanw wattabi` sabeela man anaaba ilayy; summa ilaiya marji`ukum fa unabbi`ukum bimaa kuntum ta`maloon
📖 اردو ترجمہ
اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے رستے پر چلنا پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • جَاہَدَاکَ: تمہیں مشقت میں ڈالنے کی کوشش کی، یعنی والدین نے بڑی کوشش اور زور ڈالا۔
  • تُشْرِکَ بِی: میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے۔
  • مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ: جس کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں، یعنی شرک کا کوئی ثبوت یا دلیل نہیں۔
  • صَاحِبْہُمَا: ان دونوں کے ساتھ رہو، ان کی صحبت اختیار کرو۔
  • مَعْرُوفًا: اچھے طریقے سے، نیکی اور بھلائی کے ساتھ۔
  • أَنَابَ إِلَیَّ: میری طرف رجوع کیا، میری اطاعت اور توحید کی طرف پلٹا۔
  • مَرْجِعُکُمْ: تم سب کی بازگشت، لوٹ کر جانے کی جگہ۔
  • فَأُنَبِّئُکُم: تو میں تمہیں خبر دوں گا، بتاؤں گا۔

تفسیر:

پیارے بندو! یہ آیت ہمیں ایک انتہائی اہم سبق سکھاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے والدین بھی — جو تمہارے سب سے بڑے محسن ہیں، جن کی خدمت اور اطاعت کا حکم اللہ نے دیا ہے — تم پر زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہراؤ، اور یہ شرک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں، جس کا کوئی علم نہیں، تو ان کی اس بات کو ہرگز نہ مانو۔ کیونکہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے، اور یہ وہ واحد معاملہ ہے جس میں والدین کی بات نہیں سننی چاہیے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ اس کے باوجود تم والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا نہ چھوڑو۔ دنیا میں ان کے ساتھ نرمی، محبت، احسان اور اچھے برتاؤ سے پیش آؤ۔ ان کی خدمت کرو، ان کی ضروریات پوری کرو، ان سے اچھی بات کرو — البتہ شرک اور گناہ کی بات میں ان کی اطاعت نہ کرو۔ یہ اسلام کا حسین توازن ہے: حق کی پابندی بھی، اور والدین کے ساتھ حسن سلوک بھی۔

پھر اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے کہ تم اس شخص کے راستے پر چلو جو میری طرف رجوع کرے، میری توحید اور اطاعت کو اپنائے — یعنی نبی کریم ﷺ اور ان کے سچے پیروکاروں کا راستہ۔ یہی راستہ نجات کا راستہ ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تم سب کو ایک دن میری طرف لوٹ کر آنا ہے، اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم دنیا میں کیا کرتے رہے۔ اچھے اعمال کا بدلہ اچھا، اور برے اعمال کا بدلہ برا۔ یہ یاد دہانی ہمیں ہمیشہ چوکنا رکھتی ہے کہ ہر عمل کا حساب ہوگا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ کس طرح محبت اور احترام کو برقرار رکھتے ہوئے حق پر قائم رہنا ہے۔ والدین کی خدمت جنت کا دروازہ ہے، لیکن اللہ کی رضا سب سے مقدم ہے۔ جب ہم والدین کے ساتھ حسن سلوک کریں گے اور ساتھ ہی اللہ کے احکام پر عمل کریں گے، تو ہماری زندگی میں برکت آئے گی، اور ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں گے۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم والدین کے فرمانبردار بھی رہیں اور اللہ کے وفادار بھی۔ آمین۔



📜 آیت 13-17 — لقمان

13وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
اور (اُس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا۔ شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے
14وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ
اور ہم نے انسان کو جسے اُس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اُٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور (آخرکار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے
15وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ۚ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے رستے پر چلنا پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا
16يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں۔ خدا اُس کو قیامت کے دن لاموجود کرے گا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے
17يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا۔ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں
لقمانقرآن فہرست
34آیت
مکیRevelation
15آیت

ترجمہ — لقمان 15

سورہ لقمان آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ…

سورہ آیت 15/34 — لقمان لقمان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: لقمان سنیں, لقمان ترجمہ, لقمان mp3, لقمان pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں