سجدہ · 3/30
ترجمہ تلفظ — سجدہ
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ ۝٣
Am yaqooloonaf taraahu bal huwal haqqu mir rabbika litunzira qawma maaa ataahum min nazeerim min qablika la`allahum yahtadoon
📖 اردو ترجمہ
کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو از خود بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ہدایت کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تاکہ یہ رستے پر چلیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • افتراہ: اسے گھڑ لیا، خود بنا لیا۔
  • الحق: ثابت، سچا، جو کسی شک و شبہ سے پاک ہو۔
  • من ربک: تیرے رب کی طرف سے۔
  • لتنذر: تاکہ تو ڈرائے، خبردار کرے۔
  • ما اتاہم من نذیر من قبلک: جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا (نبی) نہیں آیا۔
  • لعلہم یہتدون: تاکہ وہ ہدایت پائیں، سیدھی راہ پر آجائیں۔

تفسیر:

یہ آیت ان مشرکین کے الزام کا رد کرتی ہے جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود بنا لیا؟ ہرگز نہیں! یہ ان کا محض بہتان ہے۔ بلکہ یہ قرآن حق ہے، سچا اور ثابت شدہ کلام ہے، جو تیرے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ یہ کوئی انسانی تصنیف نہیں، بلکہ وحی الٰہی ہے جس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔

اس قرآن کے نازل ہونے کا ایک عظیم مقصد یہ ہے کہ آپ ﷺ ایک ایسی قوم کو ڈرائیں اور خبردار کریں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی نبی یا رسول نہیں آیا تھا۔ یہ عرب کی قوم تھی جو طویل عرصے سے دور جاہلیت میں مبتلا تھی، ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں پہنچی تھی، اور نہ کوئی ڈرانے والا آیا تھا۔ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے آپ ﷺ کو انہیں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تاکہ وہ جہالت کے اندھیروں سے نکل کر ہدایت کی روشنی میں آجائیں۔

یہ اللہ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ جب کسی قوم کے پاس کوئی نبی نہیں آتا تو وہ عذاب سے پہلے معذور نہیں ہوتی، لیکن جب رسول آجاتا ہے تو حجت کامل ہوجاتی ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت اس قوم کے لیے اللہ کا بہت بڑا احسان ہے، تاکہ وہ ہدایت پائیں، حق کو پہچانیں، اس پر ایمان لائیں اور اسے اپنی زندگی میں اپنائیں۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ جو لوگ اسے بندے کا کلام کہتے ہیں، وہ دراصل اپنی ہی ہلاکت کا سامان کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس قرآن کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں، کیونکہ یہی ہماری کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ اللہ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا، اور یہ قرآن ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ آئیے ہم اس کی تعلیمات کو اپنائیں اور اپنی زندگیوں کو سنواریں، تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں۔ اللہ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 1-5 — سجدہ

1الم
الٓمٓ
2تَنزِيلُ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے پروردگار کی طرف سے ہے
3أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو از خود بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ہدایت کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تاکہ یہ رستے پر چلیں
4اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ مَا لَكُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ ۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ اس کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا۔ کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے؟
5يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ
وہی آسمان سے زمین تک (کے) ہر کام کا انتظام کرتا ہے۔ پھر وہ ایک روز جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگی۔ اس کی طرف صعود (اور رجوع) کرے گا
سجدہقرآن فہرست
30آیت
مکیRevelation
3آیت

ترجمہ — سجدہ 3

سورہ سجدہ آیت 3 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس…

سورہ آیت 3/30 — سجدہ السجدة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سجدہ سنیں, سجدہ ترجمہ, سجدہ mp3, سجدہ pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں