یہ آیت کریمہ ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو ظاہری طور پر مسلمانوں کے ساتھ تھے لیکن ان کے دلوں میں نفاق اور کفر چھپا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے احوال بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ اگر غزوۂ احزاب کے موقع پر دشمن کے لشکر (احزاب) مدینہ کے اطراف سے شہر میں داخل ہو جاتے، اور پھر ان منافقوں سے کہا جاتا کہ تم کفر و شرک کی طرف واپس چلے جاؤ اور مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کا ساتھ دو، تو وہ فوراً اس دعوت کو قبول کر لیتے۔ وہ اس شرک اور کفر کی طرف لوٹنے میں ذرا بھی تاخیر نہ کرتے، بلکہ بڑی جلدی سے اسے قبول کر لیتے، کیونکہ ان کے دلوں میں کفر پہلے سے موجود تھا اور وہ صرف موقع کی تلاش میں تھے۔
یہ آیت منافقین کے کردار کی بے نقابی کرتی ہے کہ ان کا اسلام سے تعلق صرف ظاہری اور وقتی مصلحت پر مبنی تھا، نہ کہ ایمان کی مضبوطی پر۔ جب مصیبت آتی تو ان کا اصل چہرہ سامنے آ جاتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ایمان صرف زبانی اقرار کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کی گہرائیوں سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین اور اس پر ثابت قدمی کا نام ہے۔ مومن وہ ہے جو مصیبتوں اور آزمائشوں میں بھی اپنے ایمان پر قائم رہے، جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے غزوۂ احزاب جیسی سخت آزمائش میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نفاق اور منافقت کی بیماری سے بچائے اور ہمارے دلوں کو سچے ایمان سے منور فرمائے۔ آمین۔
اور جب اُن میں سے ایک جماعت کہتی تھی کہ اے اہل مدینہ (یہاں) تمہارے ٹھہرنے کا مقام نہیں تو لوٹ چلو۔ اور ایک گروہ ان میں سے پیغمبر سے اجازت مانگنے اور کہنے لگا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے۔ وہ تو صرف بھاگنا چاہتے تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔