تاکہ سچ کہنے والوں سے اُن کی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لِیَسْأَلَ الصَّادِقِینَ عَن صِدْقِهِمْ: تاکہ وہ (اللہ) سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں پوچھے۔
وَأَعَدَّ لِلْکَافِرِینَ عَذَابًا أَلِیمًا: اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ہم نے انبیاءِ کرام علیہم السلام سے عہدِ میثاق لیا تھا، اور یہ سب کچھ اس لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے سچے رسولوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال فرمائے گا، یعنی ان سے پوچھے گا کہ انہوں نے اپنی امتوں تک پیغامِ حق پہنچایا یا نہیں، اور ان کی امتوں نے انہیں کیسے جواب دیا۔ یہ سوال دراصل کافروں کو شرمندہ اور رسوا کرنے کے لیے ہوگا، تاکہ ان پر حجت قائم ہو جائے اور وہ کوئی عذر پیش نہ کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ کو تو پہلے سے ہی سب کچھ معلوم ہے، لیکن یہ سوال اس لیے کیا جائے گا تاکہ حق ثابت ہو اور باطل کا پردہ چاک ہو۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے، جو جہنم کی آگ ہے۔ یہ عذاب ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا، ان کی دعوت کو رد کیا، اور اللہ کی آیات پر ایمان نہ لائے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء سے عہد لیا تھا کہ وہ پیغامِ حق پہنچائیں گے، اور آج ہم پر بھی یہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم دینِ اسلام کو عام کریں، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔ اللہ تعالیٰ سچے اور مخلص لوگوں کو پسند فرماتا ہے، اور جو لوگ اپنے قول و فعل میں سچے ہوتے ہیں، اللہ انہیں عزت اور کامیابی عطا فرماتا ہے۔ دوسری طرف کفر و انکار کا انجام بہت برا ہے، اللہ نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں، اللہ کے احکامات پر عمل کریں، اور اپنی زندگی کو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھالیں۔ یاد رکھیں، سچائی اور ایمان ہی نجات کا ذریعہ ہے، اور کفر و عناد ہلاکت کا سبب۔ اللہ ہمیں سچائی پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
پیغمبر مومنوں پر اُن کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔ اور رشتہ دار آپس میں کتاب الله کے رُو سے مسلمانوں اور مہاجروں سے ایک دوسرے (کے ترکے) کے زیادہ حقدار ہیں۔ مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔ (تو اور بات ہے) ۔ یہ حکم کتاب یعنی (قرآن) میں لکھ دیا گیا ہے
مومنو خدا کی اُس مہربانی کو یاد کرو جو (اُس نے) تم پر (اُس وقت کی) جب فوجیں تم پر (حملہ کرنے کو) آئیں۔ تو ہم نے اُن پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (نازل کئے) جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اور جو کام تم کرتے ہو خدا اُن کو دیکھ رہا ہے
جب وہ تمہارے اُوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔