سبا · 52/54
ترجمہ تلفظ — سبا
وَقَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٍ  ۝٥٢
Wa qaloo aamannaa bihee wa annaa lahumut tanaawushu mim makaanim ba`eed
📖 اردو ترجمہ
اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) اتنی دور سے ان کا ہاتھ ایمان کے لینے کو کیونکر پہنچ سکتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تناوش: کسی چیز کو ہاتھ سے پکڑنے یا حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔
  • مکان بعید: دور کی جگہ، یعنی وہ مقام جہاں سے ایمان قبول کرنا ممکن نہ ہو۔

تفسیر:

جب کافروں کو آخرت میں عذاب الٰہی کا مشاہدہ ہوگا اور وہ اپنے انجام کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے، تو اس وقت وہ پشیمانی اور ندامت کے عالم میں کہیں گے: "ہم اس پر ایمان لے آئے" یعنی ہم اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں۔ لیکن یہ ایمان لانا ان کے لیے کیسے ممکن ہوگا؟ وہ ایمان اور توبہ کی دولت حاصل کرنا چاہیں گے، مگر یہ دولت تو ان سے بہت دور جا چکی ہوگی۔

یہ ایمان لانے کا وقت دنیا تھا، جہاں انہیں اختیار دیا گیا تھا کہ وہ ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں۔ لیکن انہوں نے اس موقع کو ضائع کر دیا اور حق کو جھٹلایا۔ اب آخرت میں جب وہ عذاب دیکھیں گے، تو ایمان لانے کی خواہش کریں گے، لیکن یہ خواہش بے سود ہوگی، کیونکہ آخرت دار الجزاء ہے، دارالعمل نہیں۔ وہاں سے ایمان کی طرف لوٹنا ایسے ہی ہے جیسے دور سے کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کرنا جو ہاتھ نہ آ سکے۔

یہ وہی حالت ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے کہ جب وہ عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے: "کیا اب کوئی راہ نکلنے کی ہے؟" لیکن انہیں کوئی راہ نہ ملے گی۔ ان کا ایمان اس وقت نہ صرف بے کار ہوگا بلکہ ان پر حجت قائم ہو جائے گی کہ انہوں نے دنیا میں حق کو جان بوجھ کر رد کیا تھا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ایمان اور توبہ کا دروازہ صرف دنیا میں کھلا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی کی مہلت دی ہے تاکہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔ آج ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور نیک اعمال کریں۔ کل جب موت آ جائے گی یا قیامت قائم ہو جائے گی، تو پھر ایمان لانے کا موقع نہیں ملے گا۔

پیارے مسلمان بھائیو! آج ہی کا دن ہے عمل کا، آج ہی رحمت الٰہی کے دروازے کھلے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت توبہ قبول کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن یہ موقع ہمیشہ نہیں رہے گا۔ آئیے ہم اس قیمتی موقع سے فائدہ اٹھائیں، اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کریں، اور اپنے خالق و مالک کی اطاعت میں زندگی گزاریں تاکہ آخرت کی رسوائی اور عذاب سے بچ سکیں۔ اللہ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 50-54 — سبا

50قُلۡ إِن ضَلَلۡتُ فَإِنَّمَآ أَضِلُّ عَلَىٰ نَفۡسِيۖ وَإِنِ ٱهۡتَدَيۡتُ فَبِمَا يُوحِيٓ إِلَيَّ رَبِّيٓۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ قَرِيبٌ 
کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا ضرر مجھی کو ہے۔ اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس کا طفیل ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے۔ بےشک وہ سننے والا (اور) نزدیک ہے
51وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ فَزِعُواْ فَلَا فَوۡتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ 
اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرا جائیں گے تو (عذاب سے) بچ نہیں سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لئے جائیں گے
52وَقَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٍ 
اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) اتنی دور سے ان کا ہاتھ ایمان کے لینے کو کیونکر پہنچ سکتا ہے
53وَقَدۡ كَفَرُواْ بِهِۦ مِن قَبۡلُۖ وَيَقۡذِفُونَ بِٱلۡغَيۡبِ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٍ 
اور پہلے تو اس سے انکار کرتے رہے اور بن دیکھے دور ہی سے (ظن کے) تیر چلاتے رہے
54وَحِيلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشۡيَاعِهِم مِّن قَبۡلُۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ فِي شَكٍّ مُّرِيبِۭ 
اور ان میں اور ان کی خواہش کی چیزوں میں پردہ حائل کردیا گیا جیسا کہ پہلے ان کے ہم جنسوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے
سباقرآن فہرست
54آیت
مکیRevelation
52آیت

ترجمہ — سبا 52

سورہ آیت 52/54 — سبا سبأ (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سبا سنیں, سبا ترجمہ, سبا mp3, سبا pdf. آیت 50–54. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں