ترجمہ — Tafsir
یُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَیُولِجُ النَّهَارَ فِی اللَّیْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ یَجْرِی لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۚ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ۚ وَالَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا یَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِیرٍ
معانی الفاظ:
- یُولِجُ: داخل کرتا ہے۔
- سَخَّرَ: مسخر کیا، تابع کیا۔
- لِأَجَلٍ مُسَمًّى: ایک مقررہ وقت تک۔
- قِطْمِیرٍ: کھجور کی گٹھلی کے اوپر کی باریک جھلی۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے وہ عظیم نشانات بیان فرما رہے ہیں جو ہر انسان اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ یعنی جب رات لمبی ہوتی ہے تو دن چھوٹا ہو جاتا ہے، اور جب دن لمبا ہوتا ہے تو رات چھوٹی ہو جاتی ہے۔ یہ کمی بیشی ایک حکیمانہ نظام کے تحت ہوتی ہے، جس سے دن رات کی لمبائی میں توازن برقرار رہتا ہے۔
پھر اللہ نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے، دونوں ایک مقررہ وقت تک اپنے مدار میں چلتے رہتے ہیں۔ سورج اپنے طلوع و غروب کے نظام پر چلتا ہے، چاند اپنی منازل طے کرتا ہے، یہاں تک کہ قیامت کا دن آئے گا اور یہ نظام ختم ہو جائے گا۔ یہ سب کچھ اللہ کی قدرت اور حکمت کا مظہر ہے۔
یہ سب کچھ جو تم دیکھ رہے ہو، یہ اللہ ہے جو تمہارا رب ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اسی کا اختیار ہے۔ وہی اس کائنات کا خالق، مالک اور منتظم ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو مخاطب کرتے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، چاہے وہ بت ہوں، پتھر ہوں یا کوئی اور چیزیں۔ فرمایا: تم اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو پکارتے ہو، وہ تو ایک کھجور کی گٹھلی کے اوپر کی باریک جھلی کے بھی مالک نہیں ہیں۔ یعنی ان کے پاس تو ذرہ برابر بھی اختیار نہیں، نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ پھر ان کی عبادت کیسے کی جا سکتی ہے؟
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں، جس رب نے رات اور دن کا یہ نظام بنایا، سورج اور چاند کو مسخر کیا، وہی تمہارا خالق اور مالک ہے۔ اس کی قدرت کا کوئی مقابلہ نہیں، اس کی رحمت کا کوئی حصاب نہیں۔ جب وہ اتنا بڑا نظام چلا رہا ہے، تو کیا وہ تمہاری دعاؤں کو نہیں سن سکتا؟ کیا وہ تمہاری حاجتیں پوری نہیں کر سکتا؟ یقیناً وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔
پھر کیوں ہم اس رب کو چھوڑ کر ان چیزوں کی طرف جھکتے ہیں جو خود کسی چیز کی مالک نہیں؟ آئیے ہم اپنے دل کو صرف اللہ سے جوڑیں، اسی سے مدد مانگیں، اسی سے ڈریں اور اسی سے امید رکھیں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے، یہی سکون اور اطمینان کا ذریعہ ہے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلائے اور اپنی عبادت کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 11-15 — فاطر
ترجمہ — فاطر 13
سورہ فاطر آیت 13 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور (وہی) دن…سورہ آیت 13/45 — فاطر فاطر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فاطر سنیں, فاطر ترجمہ, فاطر mp3, فاطر pdf. آیت 11–15. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








