یس · 33/83
ترجمہ تلفظ — یس
وَءَايَةٌ لَّهُمُ ٱلۡأَرۡضُ ٱلۡمَيۡتَةُ أَحۡيَيۡنَٰهَا وَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبًّا فَمِنۡهُ يَأۡكُلُونَ  ۝٣٣
Wa Aayatul lahumul ardul maitatu ahyainaahaa wa akhrajnaa minhaa habban faminhu yaakuloon
📖 اردو ترجمہ
اور ایک نشانی ان کے لئے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • آیت: نشانی، دلیل اور علامت
  • میتہ: خشک، بے جان، بے روح
  • احیینا: ہم نے زندہ کیا
  • حباً: اناج، غلہ، دانے (جیسے گندم، جو وغیرہ)

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکینِ مکہ کو ایک عظیم نشانی دکھائی ہے جو ان کی آنکھوں کے سامنے روزانہ رونما ہوتی ہے۔ وہ نشانی یہ ہے کہ یہ زمین جو خشک اور بے جان پڑی ہوتی ہے، جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو اس پر بارش برساتا ہے، اور وہی مردہ زمین پھر زندہ ہو جاتی ہے۔ اس میں سے طرح طرح کے اناج اور غلے نکلتے ہیں، جنہیں انسان کھاتے ہیں اور جانور چرتے ہیں۔

یہ منظر خود اس بات کا ثبوت ہے کہ جس اللہ نے اس خشک زمین کو زندہ کیا اور اس میں سے دانے اگائے، وہی اللہ قیامت کے دن مردوں کو بھی زندہ کرے گا۔ جس طرح بارش کے پانی سے زمین میں جان پڑ جاتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے قبروں میں پڑے ہوئے مردوں کو زندہ کر کے نکالے گا۔

یہ نشانی اس لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کہ یہ ہر موسم میں، ہر سال دہرائی جاتی ہے۔ کسان بیج بوتا ہے، زمین سے پودا نکلتا ہے، پھر وہ بڑھتا ہے اور آخر کار دانے دیتا ہے۔ یہ سارا عمل خود ایک زندہ مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ مردہ سے زندہ نکالتا ہے۔ جس طرح ایک چھوٹے سے دانے سے بڑا پودا نکلتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسانوں کو ان کی قبروں سے نکالے گا۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر "حب" یعنی اناج کا ذکر کیا ہے، کیونکہ یہ انسان کی بنیادی خوراک ہے۔ انسان کی زندگی کا دارومدار اس پر ہے، اور یہ اللہ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ہے۔ جب انسان اپنی روزمرہ کی روٹی کے بارے میں سوچے تو اسے اللہ کی قدرت اور رحمت کا اندازہ ہوتا ہے۔

پیارے مسلمان بھائیو اور بہنو! جب ہم اپنے کھانے کی میز پر بیٹھتے ہیں اور روٹی کا ایک نوالہ اٹھاتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ کی عظیم نشانی ہے۔ یہ وہی اللہ ہے جس نے خشک زمین کو زندہ کیا، بارش برسائی، اور اس میں سے اناج اگایا۔ جو اللہ ایسا کرنے پر قادر ہے، وہ یقیناً ہمیں بھی مرنے کے بعد زندہ کرے گا۔ اس لیے ہمیں اپنی زندگی اللہ کی اطاعت میں گزاریں، اس کے احکامات پر عمل کریں، اور اس دن کے لیے تیاری کریں جب سب لوگ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے۔

یاد رکھیں! یہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے۔ جس طرح اللہ نے اس مردہ زمین کو زندہ کیا، اسی طرح وہ ہمیں بھی زندہ کرے گا۔ پس ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نعمتوں پر شکر کریں اور اس کی عبادت میں مشغول رہیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 31-35 — یس

31أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ أَنَّهُمۡ إِلَيۡهِمۡ لَا يَرۡجِعُونَ 
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کردیا تھا اب وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے
32وَإِن كُلٌّ لَّمَّا جَمِيعٌ لَّدَيۡنَا مُحۡضَرُونَ 
اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کيے جائیں گے
33وَءَايَةٌ لَّهُمُ ٱلۡأَرۡضُ ٱلۡمَيۡتَةُ أَحۡيَيۡنَٰهَا وَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبًّا فَمِنۡهُ يَأۡكُلُونَ 
اور ایک نشانی ان کے لئے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں
34وَجَعَلۡنَا فِيهَا جَنَّٰتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعۡنَٰبٍ وَفَجَّرۡنَا فِيهَا مِنَ ٱلۡعُيُونِ 
اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کردیئے
35لِيَأۡكُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦ وَمَا عَمِلَتۡهُ أَيۡدِيهِمۡۚ أَفَلَا يَشۡكُرُونَ 
تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا تو پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟
یسقرآن فہرست
83آیت
مکیRevelation
33آیت

ترجمہ — یس 33

سورہ آیت 33/83 — یس يس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یس سنیں, یس ترجمہ, یس mp3, یس pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں