ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سُلْطَانٌ: حجت، دلیل، برہان۔
- مُبِينٌ: واضح، روشن، جو ہر ایک پر عیاں ہو۔
تفسیرِ آیہ:
اس سے پہلے کی آیات میں مشرکینِ عرب کے اس جھوٹے عقیدے کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے، اور وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں سخت تنبیہ کی اور اب اس آیت میں ان سے چیلنج کے انداز میں سوال کیا جا رہا ہے کہ:
"کیا تمہارے پاس کوئی واضح دلیل اور روشن برہان ہے جو تمہارے اس قول کی تائید کرتا ہو؟"
یہ ایک ایسا سوال ہے جو ان کے دعوے کی بنیاد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی شخص جب کوئی بڑا دعویٰ کرتا ہے تو اس کے پاس یا تو کوئی دلیل ہوتی ہے یا پھر وہ کسی کتاب یا رسول کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن مشرکین کے پاس نہ کوئی عقل کی دلیل تھی، نہ کوئی آسمانی کتاب، نہ کوئی رسول، اور نہ ہی کوئی معجزہ۔ ان کے پاس صرف اندھی تقلید اور آباء و اجداد کی پیروی تھی۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کے معاملے میں ہر بات دلیل اور برہان پر مبنی ہونی چاہیے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو عقل و فطرت سے مکمل ہم آہنگ ہے، اس کی ہر تعلیم پر دلائل موجود ہیں۔ جب ہم کسی غیر مسلم کو اسلام کی دعوت دیں تو ہمیں چاہیے کہ حکمت اور دلیل کے ساتھ پیش کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔"
یہ آیت ہمارے ایمان کو مضبوط کرتی ہے کہ توحید ہی حق ہے اور شرک باطل ہے۔ اگر مشرکین کے پاس اپنے شرک پر کوئی دلیل نہیں تھی، تو ہمارے پاس توحید پر کتنے روشن دلائل ہیں! آسمان و زمین کی تخلیق، نظامِ کائنات، انسانی جسم کی ساخت، ہر چیز ایک ہی خالق کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ثابت قدم رکھے اور ہمارے دلوں کو توحید کی حلاوت سے بھر دے۔ آمین۔
📜 آیت 154-158 — صافات
ترجمہ — صافات 156
سورہ صافات آیت 156 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یا تمہارے پاس کوئی صریح دلیل ہےسورہ آیت 156/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 154–158. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








