ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صَيْحَةً: ایک زوردار آواز یا چیخ، جس سے مراد صور پھونکے جانے کی آواز ہے۔
- فَوَاقٍ: رکنا، ٹھہرنا، یا لوٹنا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس صیحہ کے بعد کوئی مہلت یا وقفہ نہ ہوگا۔
تفسیر:
یہ آیت مکہ کے کافروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو جھٹلا رہے تھے اور عذاب کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ عذاب کب آئے گا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ اپنے کفر و تکذیب پر قائم رہتے ہوئے عذاب کے منتظر ہیں، لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا انتظار کسی لمبی مدت کا نہیں، بلکہ صرف ایک ہی صیحہ (صور کی آواز) کا ہے۔ جب وہ آواز آئے گی، تو اس میں کوئی توقف، رکاوٹ یا واپسی نہ ہوگی۔ یہ صیحہ قیامت کی پہلی نفخہ ہے جس کے بعد سارا نظامِ عالم درہم برہم ہو جائے گا اور سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ یہ عذاب ان پر اس وقت آئے گا جب وہ اپنے کفر پر مریں گے، اور اس کے بعد کوئی مہلت یا موقع توبہ نہ ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ کی طرف سے عذاب کا وعدہ حق ہے اور اس میں کوئی تاخیر نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ موت سے پہلے توبہ کر لے، کیونکہ جب وہ صیحہ آجائے گی تو کوئی موقع نہ ملے گا۔ یہ آیت ہمیں غفلت سے بیدار کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت میں گزاریں اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں، تاکہ اس دن ہم خوف و پریشانی سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے، لیکن موت کے بعد کوئی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ لہٰذا آج ہی اپنے رب کی طرف رجوع کریں اور اس کی رحمت کے طلب گار بنیں۔
📜 آیت 13-17 — ص
ترجمہ — ص 15
سورہ ص آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا…سورہ آیت 15/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








