ترجمہ — Tafsir
﴿وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ﴾
معانی الفاظ:
- قِطَّنَا: ہمارا حصہ، ہمارا نصیب۔ اس سے مراد عذاب کا وہ حصہ ہے جو ان کے لیے مقدر کیا گیا تھا۔
- عَجِّل: جلدی کر، جلد دے دے۔
تفسیر:
یہ آیت ان کافروں اور منکرینِ حق کا حال بیان کرتی ہے جو نہ صرف حق کو ماننے سے انکار کرتے تھے بلکہ اپنی نادانی اور ضد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے یہ کہتے تھے: "اے ہمارے رب! ہمارا حصہ (عذاب) ہمیں جلدی دے دے، روزِ حساب سے پہلے ہی دے دے۔" یہ ان کا طنز اور مذاق تھا، کیونکہ وہ قیامت اور حساب کے دن کو جھٹلاتے تھے، اس لیے انہوں نے بے باکی سے یہ کہا کہ اگر واقعی عذاب ہے تو اسے دنیا ہی میں دکھا دو۔
یہ ان کی جہالت اور سرکشی کی انتہا تھی کہ وہ اپنے لیے بھلائی کی بجائے عذاب کی دعا کر رہے تھے، حالانکہ عذاب سے بھاگنا چاہیے تھا۔ لیکن ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی، اور وہ حق سے اس قدر برگشتہ ہو چکے تھے کہ عذابِ الٰہی کو بھی مذاق بنا لیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ انسان کو اللہ سے ہمیشہ خیر اور بھلائی کی دعا کرنی چاہیے، نہ کہ جلدی میں برائی مانگنا چاہیے۔ یہ کفار کا طرزِ عمل تھا کہ وہ عذاب کو طلب کرتے تھے، لیکن ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ سے عافیت، مغفرت اور جنت کی طلب کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے کہ ہم اپنی نادانی کی وجہ سے ایسی چیزیں مانگیں جو ہمارے لیے نقصان دہ ہوں۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت عذاب سے کہیں بڑی ہے، اور وہ اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے، بشرطیکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔
📜 آیت 14-18 — ص
ترجمہ — ص 16
سورہ ص آیت 16 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا…سورہ آیت 16/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 14–18. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








