ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَاخْرُجْ مِنْهَا: اس (جنت) سے نکل جا۔
- رَجِیمٌ: رحمت سے دور کیا ہوا، ملعون، پتھر مارا ہوا، مطرود۔
تفسیرِ آیہ:
اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے اس گستاخانہ اور سرکشانہ رویے کے بعد، جب اس نے حکمِ الٰہی کی تعمیل سے انکار کیا اور تکبر کیا، تو اسے سخت ترین سزا کا حکم سنایا۔ فرمایا: "تو اس (جنت) سے نکل جا، بے شک تو رحمت سے دور کیا ہوا ہے۔"
یہ اللہ کا فیصلہ تھا جو ابلیس پر اس کے تکبر اور نافرمانی کی وجہ سے نازل ہوا۔ ابلیس کو جنت سے نکال دیا گیا اور اس پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار پڑی۔ وہ ہمیشہ کے لیے رحمتِ الٰہی سے محروم ہو گیا اور اسے قیامت تک کے لیے مطرود و ملعون قرار دے دیا گیا۔
یہ آیت ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے کہ تکبر اور سرکشی اللہ کے نزدیک کتنی بڑی معصیت ہے۔ ابلیس نے ہزاروں سال عبادت کی تھی، لیکن ایک لمحے کے تکبر نے اس کی تمام عبادتوں کو خاک میں ملا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے جنت سے نکال کر اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عاجزی ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ جس طرح ابلیس کا تکبر اس کے زوال کا سبب بنا، اسی طرح ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر سے تکبر اور غرور کو نکال دیں اور اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے حکموں پر چلتے ہیں اور اپنے نفس کو پاک رکھتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ابلیس کے راستے سے بچیں اور اس کی پیروی نہ کریں، کیونکہ وہ ہمارا کھلا دشمن ہے۔ اللہ کی رحمت انہی لوگوں کے لیے ہے جو اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے دین پر قائم رہتے ہیں۔
📜 آیت 75-79 — ص
ترجمہ — ص 77
سورہ ص آیت 77 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہےسورہ آیت 77/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 75–79. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








