ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَعْنَتی: میری پھٹکار، رحمت سے دوری اور عذاب کا سبب بننے والی بددعا۔
- یَوْمِ الدِّینِ: جزا اور حساب کا دن، یعنی قیامت کا دن۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ابلیس! تجھ پر میری لعنت ہے، یعنی میری رحمت سے دوری، میری پھٹکار اور میرے غضب کا نزول تیرے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے، اور یہ لعنت تجھ پر قیامت کے دن تک قائم رہے گی، جب سب لوگ اپنے اعمال کا بدلہ پانے کے لیے اٹھائے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کی سزا اور اس کی رسوائی کسی ایک وقت یا دور تک محدود نہیں، بلکہ وہ ہمیشہ کے لیے اللہ کی رحمت سے محروم اور اس کے عذاب کا مستحق ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو اس نے شیطان کے تکبر، نافرمانی اور آدم علیہ السلام کی فضیلت کو تسلیم نہ کرنے پر سنایا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے کہ تکبر اور خود پسندی انسان کو کس قدر تباہ کر سکتی ہے۔ شیطان نے لاکھوں سال عبادت کی تھی، لیکن ایک لمحے کے تکبر نے اسے اللہ کی رحمت سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر عاجزی اور انکساری پیدا کریں، اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کریں، اور کبھی بھی اپنے علم، عمل یا نسب پر گھمنڈ نہ کریں۔ اللہ کی رحمت اپنے بندوں پر بے حد وسیع ہے، لیکن یہ رحمت انہیں ملتی ہے جو اس کے سامنے جھک جائیں اور اس کی اطاعت کریں۔ ہمیں شیطان کے دھوکے سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے اور اس کی لعنت سے بچنے کے لیے اس کی اطاعت کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کا فیصلہ عین عدل پر مبنی ہے، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا۔ لہٰذا ہمیں اپنی زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم اس کی رحمت کے مستحق بنیں اور اس کی لعنت سے محفوظ رہیں۔
📜 آیت 76-80 — ص
ترجمہ — ص 78
سورہ ص آیت 78 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت (پڑتی)…سورہ آیت 78/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 76–80. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








