ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- خیر: بہتر، افضل
- نار: آگ
- طین: مٹی، گارا
تفسیر:
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ انہیں سجدہ کریں، تو شیطان (ابلیس) نے اللہ کے حکم کی تعمیل کرنے سے انکار کر دیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: "اے ابلیس! تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اسے سجدہ نہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا؟" تو اس نے تکبر اور غرور کے ساتھ جواب دیا: "میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔"
یہ شیطان کا وہی پرانا تکبر تھا جو اسے ہلاکت کی طرف لے گیا۔ اس نے اپنے خالق کے حکم کو رد کر دیا اور اپنی ذات کو برتر سمجھا۔ اس کا خیال تھا کہ آگ مٹی سے افضل ہے، اس لیے وہ آدم علیہ السلام سے بہتر ہے۔ لیکن یہ اس کی جہالت تھی، کیونکہ فضیلت کا معیار عنصر نہیں بلکہ اطاعت اور تقویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے بنایا، انہیں اپنی روح سے نوازا، اور انہیں علم سکھایا، یہی ان کی حقیقی فضیلت تھی۔
موعظت اور دعوت:
اس واقعے سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ تکبر اور غرور انسان کو کس قدر تباہ کر دیتا ہے۔ شیطان نے اپنے علم اور عبادت کے باوجود صرف تکبر کی وجہ سے اللہ کی رحمت سے محروم ہو گیا۔ آج بھی جو لوگ اپنے مال، حسن، علم، نسب یا کسی بھی چیز پر تکبر کرتے ہیں، وہ شیطان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل فضیلت تقویٰ اور اطاعت میں ہے، نہ کہ کسی مادی عنصر یا دنیاوی چیز میں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر سے تکبر کو ختم کریں اور عاجزی و انکساری کو اپنائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ متکبروں کو پسند نہیں فرماتا۔ آئیے ہم شیطان کے اس انجام سے عبرت حاصل کریں اور اپنے رب کے احکام کو بلا چون و چرا قبول کریں، تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔
📜 آیت 74-78 — ص
ترجمہ — ص 76
سورہ ص آیت 76 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بولا کہ میں اس سے بہتر ہوں (کہ) تو نے…سورہ آیت 76/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 74–78. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








