ص · 79/88
ترجمہ تلفظ — ص
قَالَ رَبِّ فَأَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ  ۝٧٩
Qaala Rabbi fa anzirneee ilaa Yawmi yub`asoon
📖 اردو ترجمہ
کہنے لگا کہ میرے پروردگار مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَأَنظِرْنِي: مجھے مہلت دے، میری موت مؤخر کر دے۔
  • إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ: اس دن تک جب لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے۔

تفسیر:

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرما کر تمام فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا، تو ابلیس نے تکبر اور غرور کی وجہ سے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور اللہ کی رحمت سے محروم ہو گیا۔ اس پر اس نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ اے میرے رب! مجھے اس دن تک مہلت دے دے جب تمام مخلوقات کو قبروں سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ اس نے یہ درخواست اس لیے کی تاکہ وہ بنی آدم کو گمراہ کرنے کا موقع حاصل کر سکے اور اپنے اس دشمنی کے جذبے کو عملی جامہ پہنا سکے جو اس نے حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں اپنے دل میں رکھ لیا تھا۔

یہ درخواست دراصل ابلیس کی سرکشی اور ضد کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ اس نے اپنی خطا پر ندامت کا اظہار نہیں کیا، نہ توبہ کی، بلکہ مزید گمراہی اور بگاڑ پھیلانے کی اجازت مانگی۔ یہ اس کی شرارت اور انسان کے ساتھ عداوت کی انتہا تھی کہ وہ موت سے بھی نہ ڈرا اور اپنے رب سے لمبی عمر کی درخواست کی تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو راہ راست سے بھٹکا سکے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اہم اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ابلیس نے اللہ سے مہلت مانگی اور اللہ نے اسے قیامت تک کی مہلت دے دی، لیکن یاد رکھیں کہ اللہ کی یہ مہلت اس لیے نہیں تھی کہ وہ کامیاب ہو جائے، بلکہ یہ ایک آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو مہلت دی تاکہ اہل ایمان کی آزمائش ہو اور وہ لوگ جو سچے دل سے اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، وہ ابلیس کے وسوسوں سے بچ کر اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔

دوسرا سبق یہ ہے کہ ابلیس نے اپنی پوری کوشش کی اور آج تک کر رہا ہے کہ انسانوں کو گمراہ کرے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لیے یہ وعدہ کیا ہے کہ ابلیس کا ان پر کوئی زور نہیں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ جو لوگ مخلص ہیں، ان پر ابلیس کا کوئی تسلط نہیں ہوگا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی پناہ مانگیں، اس کی اطاعت کریں اور ابلیس کے وسوسوں سے بچنے کے لیے قرآن و سنت پر عمل کریں۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں آزمائش کے لیے بھیجا ہے۔ ہماری زندگی مختصر ہے، لیکن یہ مختصر زندگی ہی ہماری کامیابی یا ناکامی کا ذریعہ ہے۔ اگر ہم اللہ کی اطاعت کریں گے تو جنت میں داخل ہوں گے، ورنہ جہنم کا سامنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ابلیس کے دھوکے سے بچیں اور سیدھی راہ پر چلیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 77-81 — ص

77قَالَ فَٱخۡرُجۡ مِنۡهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ 
فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے
78وَإِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلدِّينِ 
اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت (پڑتی) رہے گی
79قَالَ رَبِّ فَأَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ 
کہنے لگا کہ میرے پروردگار مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے
80قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ 
فرمایا کہ تجھ کو مہلت دی جاتی ہے
81إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡوَقۡتِ ٱلۡمَعۡلُومِ 
اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے
صقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
79آیت

ترجمہ — ص 79

سورہ آیت 79/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 77–81. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں