ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- يُخَفِّفَ: تخفیف کرنا، ہلکا کرنا
- ضَعِيفًا: کمزور، ناتواں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور شفقت کے تقاضے سے اپنے بندوں پر آسانیاں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ اس کی شریعت بندوں پر بوجھ بن جائے۔ اس لیے اس نے احکام و قوانین اس انداز سے نازل فرمائے ہیں کہ انسان ان پر عمل کر سکے، اور ان میں کوئی سختی یا تنگی نہیں رکھی۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو کمزور پیدا کیا ہے — کمزور اس کے جسم میں، کمزور اس کے ارادے میں، کمزور اس کی خواہشات کے مقابلے میں۔ انسان نفسانی خواہشات پر قابو نہیں رکھ سکتا، اور نہ ہی وہ عبادات کی مشقتوں کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنے دین کو آسان بنایا، اور جہاں جہاں مشقت کا اندیشہ تھا وہاں تخفیف اور رخصت کا دروازہ کھولا۔
یہ آیت مبارکہ مسلمانوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں سے خوب واقف ہے، اور اسی لیے اس نے ہم پر ایسے احکام نہیں رکھے جو ہماری طاقت سے باہر ہوں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم آسانی کے ساتھ اس کی عبادت کریں، اور اپنی زندگیوں کو اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلائیں — بغیر کسی سختی اور تنگی کے۔
یاد رکھیے! یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ہمارے لیے دین کو آسان بنایا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس رحمت کا شکریہ ادا کریں، اور اپنی کمزوری کا احساس رکھتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کریں۔ جو شخص اپنی کمزوری کو پہچان لے، وہ اللہ کی رحمت کا امیدوار بن جاتا ہے، اور اللہ اپنے بندوں پر رحم کرنے والا ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں آسانی کو اپنائیں، سختی اور انتہا پسندی سے بچیں، اور اللہ کی شریعت کو اس کی اصل روح — یعنی آسانی اور رحمت — کے ساتھ سمجھیں۔ اللہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہماری بھلائی چاہتا ہے، اس لیے اس نے ہمیں ایسا دین عطا کیا جو ہماری فطرت کے عین مطابق ہے۔
📜 آیت 26-30 — نساء
ترجمہ — نساء 28
سورہ نساء آیت 28 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے…سورہ آیت 28/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 26–30. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








