غافر · 22/85
ترجمہ تلفظ — غافر
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَكَفَرُوا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ ۝٢٢
Zaalika bi annahum kaanat taateehim Rusuluhum bilbaiyinaati fakafaroo fa akhazahumul laah; innahoo qawiyyun shadeedul `iqaab
📖 اردو ترجمہ
یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے سو خدا نے ان کو پکڑ لیا۔ بےشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بِالْبَیِّنَاتِ: واضح اور روشن دلائل، معجزات اور نشانیاں۔
  • فَکَفَرُوا: انہوں نے کفر کیا، یعنی حق کو جھٹلایا اور ماننے سے انکار کیا۔
  • فَأَخَذَهُمُ اللّٰهُ: اللہ نے انہیں پکڑ لیا، یعنی عذاب میں مبتلا کر کے ہلاک کر دیا۔
  • شَدِیدُ الْعِقَابِ: سخت سزا دینے والا، جس کا عذاب بہت دردناک اور ناقابلِ برداشت ہے۔

تفسیر:

یہ عذاب جو پہلے گزرے ہوئے لوگوں پر آیا، جیسے قومِ نوح، عاد، ثمود اور فرعون وغیرہ، وہ محض ظلم یا اتفاق نہیں تھا، بلکہ اس کی وجہ خود ان کا رویہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس اپنے رسول بھیجے، جو معجزات اور واضح دلائل کے ساتھ آئے۔ انہوں نے اپنی دعوت کو سچ ثابت کرنے کے لیے ایسی نشانیاں پیش کیں جو عقل سلیم کو قائل کرنے کے لیے کافی تھیں۔ لیکن ان لوگوں نے ان دلائل کو دیکھ کر بھی آنکھیں بند کر لیں، حق کو جھٹلایا اور کفر پر قائم رہے۔ انہوں نے نہ صرف رسولوں کی بات نہ مانی، بلکہ ان کی تکذیب کی اور ان کے ساتھ دشمنی کا رویہ اپنایا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ وہ چاہے جتنے بھی طاقتور اور مضبوط ہوتے، اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ قوی ہے، اس کی طاقت کے آگے کوئی نہیں ٹھہر سکتا، اور وہ شدید عذاب دینے والا ہے۔ جو اس کی نافرمانی کرے اور اس کے رسولوں کو جھٹلائے، اس کے لیے اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔

یہاں ایک اہم سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ لوگ خود اپنے اعمال سے اپنی تباہی کا سامان کرتے ہیں۔ رسولوں کا آنا اللہ کی رحمت ہے، لیکن جب لوگ اس رحمت کو ٹھکرا دیتے ہیں، تو پھر اللہ کا عذاب ان کے لیے ناگزیر ہو جاتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ہمیں قرآن اور سنت کی صورت میں واضح ہدایت عطا فرمائی۔ ہمیں چاہیے کہ اس ہدایت کو قبول کریں، رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں، اور ان لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں جنہوں نے حق کو جھٹلایا۔ اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والا ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت شدید ہے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، نیک اعمال کریں، اور اللہ کی رحمت کے طلب گار بنیں، تاکہ اس کے عذاب سے محفوظ رہیں اور اس کی جنت کے حقدار بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 20-24 — غافر

20وَاللَّهُ يَقْضِي بِالْحَقِّ ۖ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ لَا يَقْضُونَ بِشَيْءٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
اور خدا سچائی کے ساتھ حکم فرماتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے۔ بےشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
21۞ أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ كَانُوا مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ
کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا
22ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَكَفَرُوا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ
یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے سو خدا نے ان کو پکڑ لیا۔ بےشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے
23وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا
24إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَقَارُونَ فَقَالُوا سَاحِرٌ كَذَّابٌ
(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
غافرقرآن فہرست
85آیت
مکیRevelation
22آیت

ترجمہ — غافر 22

سورہ غافر آیت 22 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی دلیلیں…

سورہ آیت 22/85 — غافر غافر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: غافر سنیں, غافر ترجمہ, غافر mp3, غافر pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں