Fa inis-takbaroo fallazee na `inda Rabbika yusabbihoona lahoo billaili wannnahaari wa hum laa yas`amoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو (خدا کو بھی ان کی پروا نہیں) جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر آنان تكبر مىورزند، آنها كه در نزد پروردگار تو هستند بىآنكه ملول شوند شب و روز تسبيح او مىگويند.
اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو (خدا کو بھی ان کی پروا نہیں) جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں
اسْتَكْبَرُوا: تکبر کیا، سرکشی کی، اطاعت سے انکار کیا۔
يُسَبِّحُونَ: تسبیح کرتے ہیں، پاکی بیان کرتے ہیں، عبادت اور نماز کے ذریعے اللہ کی تقدیس کرتے ہیں۔
لَا يَسْأَمُونَ: نہیں اکتاتے، نہیں تھکتے، نہیں ملول ہوتے۔
تفسیر:
جب آپ ﷺ نے مشرکین کو سجدے کی دعوت دی اور انہوں نے تکبر کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ اگر یہ لوگ تکبر کریں اور سجدے سے منہ موڑیں، تو ان کی وجہ سے اللہ کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اللہ کے حضور جو فرشتے مقرب ہیں، وہ دن رات مسلسل اس کی تسبیح اور تقدیس کرتے رہتے ہیں۔ وہ کبھی اکتاتے نہیں، نہ تھکتے ہیں اور نہ ہی اس عبادت سے ملول ہوتے ہیں۔ یہ فرشتے ہمیشہ اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول رہتے ہیں اور ان کی عبادت کبھی منقطع نہیں ہوتی۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ سجدہ صرف اللہ کے لیے ہے، اور جب مشرکین نے سجدہ کرنے سے انکار کیا تو انہوں نے دراصل اللہ کی عظمت کو نہیں پہچانا۔ لیکن فرشتے جو اللہ کے قریب ترین مخلوق ہیں، وہ ہمیشہ اس کی اطاعت میں سرگرم رہتے ہیں۔ یہ بات مومنین کے لیے بہت بڑی تسلی ہے کہ اگر کچھ لوگ حق سے منہ موڑیں تو اللہ کے گھرانے میں ہمیشہ عبادت کرنے والے موجود ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی عبادت میں ثابت قدم رہنا چاہیے، چاہے دوسرے لوگ کچھ بھی کریں۔ فرشتوں کی طرح ہمیں بھی اللہ کی تسبیح اور عبادت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے، اور کبھی اکتانا نہیں چاہیے۔ نماز، ذکر اور تلاوت قرآن کو ہمیشہ جاری رکھیں، کیونکہ یہی وہ اعمال ہیں جو ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، اللہ کو کسی کی عبادت کی ضرورت نہیں، بلکہ ہمیں اپنی بھلائی کے لیے اس کی عبادت کرنی چاہیے۔ جو لوگ تکبر کرتے ہیں، وہ صرف اپنا نقصان کرتے ہیں، جبکہ اللہ کے بندے ہمیشہ اس کی رحمت اور برکت سے مستفید ہوتے ہیں۔
اور رات اور دن اور سورج اور چاند اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو۔ بلکہ خدا ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے
اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو (خدا کو بھی ان کی پروا نہیں) جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں
اور (اے بندے یہ) اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی ہوئی (یعنی خشک) دیکھتا ہے۔ جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز پر قادر ہے
جو لوگ ہماری آیتوں میں کج راہی کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے۔ (تو خیر) جو چاہو سو کرلو۔ جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔