جو نیک کام کرے گا تو اپنے لئے۔ اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَلِنَفْسِهِ: اس کا نفع اسی کو لوٹے گا۔
فَعَلَيْهَا: اس کا وبال اسی پر ہوگا۔
بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ: بندوں پر ظلم کرنے والا (ہرگز نہیں)۔
تفسیر:
اللہ رب العزت اس آیت میں ایک عظیم حقیقت بیان فرماتے ہیں کہ جو شخص نیک عمل کرتا ہے، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، تو اس کا ثواب اور فائدہ خود اسی کو ملے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی کے نیک عمل کا محتاج نہیں، بلکہ یہ بندے کی اپنی بخشش اور نجات کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح جو شخص برائی اور گناہ کرتا ہے، اللہ کی نافرمانی کرتا ہے، تو اس کا نقصان اور وبال بھی خود اسی پر پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی کے گناہ سے متاثر نہیں ہوتا، بلکہ یہ بندے کی اپنی تباہی کا سبب بنتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنی عدل و انصاف کی صفت بیان فرماتے ہیں کہ آپ کا رب اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ وہ کسی کی نیکی کو کم نہیں کرے گا اور نہ کسی کے گناہ کو بڑھا کر سزا دے گا۔ بلکہ وہ عادل ہے، ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دے گا۔ اگر کوئی نیکی کرتا ہے تو اسے پورا پورا ثواب ملے گا، اور اگر کوئی برائی کرتا ہے تو اسے صرف اتنی ہی سزا ملے گی جتنی وہ مستحق ہے۔
یہ آیت ہمارے لیے ایک بہترین پیغام ہے کہ ہم اپنے اعمال پر توجہ دیں، کیونکہ ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار خود ہے۔ نیکی کا فائدہ ہمیں خود ملے گا اور برائی کا نقصان بھی ہمیں خود بھگتنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ انتہائی رحیم اور عادل ہے، وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ اپنے فضل سے نیکیوں کا اجر بڑھا کر دیتا ہے اور گناہوں کو معاف کرنے کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم نیک اعمال کریں، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، اور اس کے عدل و انصاف پر کامل یقین رکھیں۔ یہی ہماری کامیابی اور سعادت کا راستہ ہے۔
اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں۔ کیا (خوب کہ قرآن تو) عجمی اور (مخاطب) عربی۔ کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے (یہ) ہدایت اور شفا ہے۔ اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (یعنی بہراپن) ہے اور یہ ان کے حق میں (موجب) نابینائی ہے۔ گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں
قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے (یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے) اور نہ تو پھل گا بھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ ان کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔