شوری · 27/53
ترجمہ تلفظ — شوری
۞ وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ ۝٢٧
Wa law basatal laahur rizqa li`ibaadihee labaghaw fil ardi wa laakiny yunazzilu biqadarim maa yashaaa`; innahoo bi`ibaadihee Khabeerum Baseer
📖 اردو ترجمہ
اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے۔ لیکن وہ جو چیز چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے۔ بےشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بَسَطَ: کشادہ کرنا، فراخ کرنا
  • لَبَغَوْا: سرکشی اور ظلم کرتے
  • بِقَدَرٍ: اندازے کے ساتھ، جو مصلحت ہو اس کے مطابق
  • خَبِیرٌ: ہر چیز کی پوری خبر رکھنے والا
  • بَصِیرٌ: سب کچھ دیکھنے والا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے پناہ مہربان ہے، لیکن اس کی مہربانی کا تقاضا یہ نہیں کہ وہ ہر ایک کو بے حساب دولت اور آسائشیں دے دے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کو کشادہ روزی دے دیتا اور ہر ایک کو مال و دولت سے بھر دیتا، تو انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے سرکش ہو جاتا، زمین میں ظلم و فساد پھیلاتا، ایک دوسرے پر زیادتی کرتا اور اپنی حیثیت بھول کر اللہ کی نافرمانی پر اتر آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ کاملہ سے روزی کو ایک خاص اندازے کے ساتھ تقسیم کیا ہے — کسی کو زیادہ دیا، کسی کو کم، کسی کو وقت پر دیا، کسی کو تاخیر سے — سب کچھ اس کی مشیت اور مصلحت کے مطابق۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال سے پوری طرح باخبر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس کو کتنا دینا اس کے لیے بہتر ہے، کس حالت میں زیادہ دینا اس کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے اور کس حال میں تنگی اس کے لیے باعثِ خیر ہے۔ وہ اپنے بندوں کے ظاہر اور باطن دونوں کو دیکھتا ہے، ان کے دلوں کی کیفیت جانتا ہے، اور اسی کے مطابق ان کی روزی کا انتظام فرماتا ہے۔

یہ آیت ہمیں ایک بہت بڑا سبق سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی روزی پر اللہ کی حکمت پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ جو شخص مال کی فراوانی میں مبتلا ہو کر سرکش بن جائے، وہ درحقیقت اپنے لیے نقصان کا سودا کرتا ہے۔ اور جو شخص تنگی میں صبر کرے اور اللہ پر بھروسہ رکھے، اس کے لیے اس میں خیر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بندے کے لیے وہی مقرر کیا ہے جو اس کے لیے بہتر ہے، چاہے وہ ظاہری طور پر اسے اچھا نہ لگے۔

یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا یہ نہیں کہ وہ ہمیں وہ دے جو ہم چاہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہمیں وہ دے جو ہمارے لیے بہتر ہو۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی تقسیم پر راضی رہیں، اپنے حصے پر قناعت کریں، اور اللہ کی حکمت پر مکمل بھروسہ رکھیں۔ یہی ایمان کی پختگی کی نشانی ہے۔



📜 آیت 25-29 — شوری

25وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ
اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے
26وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ ۚ وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ
اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کی (دعا) قبول فرماتا ہے اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے
27۞ وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ
اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے۔ لیکن وہ جو چیز چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے۔ بےشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے
28وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُ ۚ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ
اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے۔ اور وہ کارساز اور سزاوار تعریف ہے
29وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَابَّةٍ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قادر ہے
شوریقرآن فہرست
53آیت
مکیRevelation
27آیت

ترجمہ — شوری 27

سورہ شوری آیت 27 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی…

سورہ آیت 27/53 — شوری الشورى (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شوری سنیں, شوری ترجمہ, شوری mp3, شوری pdf. آیت 25–29. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں