دخان · 23/59
ترجمہ تلفظ — دخان
فَأَسْرِ بِعِبَادِي لَيْلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ ۝٢٣
Fa asri bi`ibaadee lailan innakum muttaba`oon
📖 اردو ترجمہ
(خدا نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ اور (فرعونی) ضرور تمہارا تعاقب کریں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَأَسْرِ: رات کے وقت چلنا، رات میں سفر کرنا۔
  • بِعِبَادِي: میرے بندوں (یعنی بنی اسرائیل کے مومنوں) کو لے کر۔
  • لَيْلًا: رات کے وقت۔
  • مُتَّبَعُونَ: تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ رات کے وقت اپنی قوم کے مومن بندوں کو لے کر مصر سے نکل جائیں۔ یہ حکم اس وقت دیا گیا جب فرعون اور اس کی قوم نے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے ایمان دار ساتھیوں کو لے کر رات کی تاریکی میں خاموشی سے نکل جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یہ خوشخبری بھی دی کہ فرعون اور اس کا لشکر تمہارا پیچھا ضرور کریں گے، لیکن یہ تعاقب تمہارے لیے نقصان کا باعث نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں فرعون اور اس کی فوج ہلاک ہو جائے گی اور تم نجات پاؤ گے۔

یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر رحمت اور مہربانی کا مظہر تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ راہ دکھائی کہ وہ اپنی قوم کو فرعون کے ظلم سے بچا کر لے جائیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے "عِبَادِي" کا لفظ استعمال کیا ہے جو محبت اور شفقت کا اظہار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو عزت دیتا ہے اور انہیں ظالموں کے پنجے سے نجات دلاتا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے جب وہ اس پر بھروسہ رکھتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی اور رات کے وقت اپنی قوم کو لے کر نکل گئے، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ کامیابی عطا فرمائی جو اس سے پہلے کسی کو نہیں ملی تھی۔

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا حکم دیتا ہے تو اس میں بھلائی ہوتی ہے، چاہے وہ حکم ہمیں مشکل لگے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو رات کے وقت نکلنے کا حکم دیا تاکہ وہ فرعون کی نظر سے بچ سکیں، اور یہ تدبیر اللہ کی طرف سے تھی۔ ہمیں بھی اپنے معاملات میں اللہ کی رہنمائی پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اس کے حکموں پر عمل کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ بندے کے لیے کس میں بھلائی ہے۔

یہ آیت مومنین کے لیے ایک عظیم بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ظالموں کے ظلم سے نجات دلاتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دی، اسی طرح وہ ہر مومن کو اس کی مشکلات سے نجات دے گا، بشرطیکہ وہ اللہ پر ایمان رکھے اور اس کی اطاعت کرے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 21-25 — دخان

21وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہو جاؤ
22فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَٰؤُلَاءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
تب موسیٰ نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ یہ نافرمان لوگ ہیں
23فَأَسْرِ بِعِبَادِي لَيْلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(خدا نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ اور (فرعونی) ضرور تمہارا تعاقب کریں گے
24وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا ۖ إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
اور دریا سے (کہ) خشک (ہو رہا ہوگا) پار ہو جاؤ (تمہارے بعد) ان کا تمام لشکر ڈبو دیا جائے گا
25كَمْ تَرَكُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ
وہ لوگ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے
دخانقرآن فہرست
59آیت
مکیRevelation
23آیت

ترجمہ — دخان 23

سورہ دخان آیت 23 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خدا نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو راتوں رات لے…

سورہ آیت 23/59 — دخان الدخان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: دخان سنیں, دخان ترجمہ, دخان mp3, دخان pdf. آیت 21–25. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں