ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَدَعَا رَبَّهُ: تو اپنے رب کو پکارا۔
- قَوْمٌ مُجْرِمُونَ: مجرم لوگ، یعنی مشرک اور کافر لوگ۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کو بارہا سمجھایا، معجزات دکھائے، اور انہیں توحید اور حق کی طرف بلایا، لیکن انہوں نے ہٹ دھرمی اور سرکشی پر اصرار کیا اور ایمان لانے سے انکار کر دیا، تو آپ علیہ السلام نے اپنے رب کے حضور دعا کی اور عرض کیا: "اے میرے رب! یہ لوگ مجرم ہیں، یہ مشرک اور تیرے احکام سے نکلے ہوئے کافر ہیں، یہ حق قبول کرنے والے نہیں ہیں، ان پر عذاب نازل فرما۔"
یہ دعا اس وقت کی ہے جب فرعون اور اس کے سرداروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا تھا اور آپ کو جھٹلایا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے شکایت کی اور ان کے خلاف عذاب کی درخواست کی، کیونکہ انہوں نے حد سے تجاوز کر دیا تھا اور زمین میں فساد پھیلا رکھا تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب انسان حق کی تبلیغ کرتا ہے اور لوگ اسے جھٹلاتے ہیں، تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اس سے مدد مانگنی چاہیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کی اصلاح کے لیے پوری کوشش کی، لیکن جب انہوں نے سرکشی پر اصرار کیا، تو آپ نے اللہ کے سامنے دعا کی۔ یہ ہمارے لیے بھی راہ نما ہے کہ ہم اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ کریں، اس سے دعا کریں، اور اس کی رحمت اور عدل پر یقین رکھیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی دعا ضرور سنتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے، چاہے وہ مدد میں دیر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے کہ بندہ اپنے رب کے سامنے اپنی حاجت پیش کرے اور اس کی حکمت پر راضی رہے۔
📜 آیت 20-24 — دخان
ترجمہ — دخان 22
سورہ دخان آیت 22 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تب موسیٰ نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ یہ…سورہ آیت 22/59 — دخان الدخان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: دخان سنیں, دخان ترجمہ, دخان mp3, دخان pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








