ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فِرْعَوْنَ: مصر کے ظالم بادشاہ کا لقب۔
- عَالِیًا: تکبر کرنے والا، سرکش، بلندی اختیار کرنے والا۔
- مُسْرِفِین: حد سے تجاوز کرنے والے، ظلم و سرکشی میں حد سے بڑھنے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو فرعون کے عذاب اور اس کی سختیوں سے نجات دی۔ فرعون اپنی قوم پر ظلم و جبر کرتا تھا، اور اللہ کے بندوں کو انتہائی ذلت اور تکلیف میں مبتلا رکھتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا تھا، اور زمین میں تکبر و سرکشی کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو اللہ کے حکم سے سرتابی کرتے تھے، اور اپنے ظلم و زیادتی میں حد سے بڑھ گئے تھے۔ اس کی سرکشی اور تکبر کی انتہا یہ تھی کہ اس نے دعویٰ کیا کہ "میں تمہارا ربِ اعلیٰ ہوں"۔
یہ آیت ہمیں اللہ کی قدرت اور رحمت کی یاد دلاتی ہے کہ وہ اپنے مظلوم بندوں کو ظالموں کے پنجے سے نجات دیتا ہے، چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ فرعون جیسا جابر حکمران بھی اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکا، اور اپنے تکبر و سرکشی کی وجہ سے ہلاک ہوا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ تکبر اور سرکشی اللہ کی نافرمانی کی جڑ ہے۔ جو شخص اللہ کے سامنے عاجزی نہیں کرتا، وہ اپنے انجام سے ڈرے۔ اللہ تعالیٰ مظلوموں کی مدد کرتا ہے اور ظالموں کو ہلاک کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے سامنے جھکیں، اس کی عبادت کریں، اور اس کے حکموں پر عمل کریں، تاکہ ہم بھی فرعون جیسے ظالموں کے انجام سے محفوظ رہیں۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت مومنوں کے قریب ہے، اور اس کی گرفت ظالموں کے لیے بہت سخت ہے۔
📜 آیت 29-33 — دخان
ترجمہ — دخان 31
سورہ دخان آیت 31 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یعنی) فرعون سے۔ بےشک وہ سرکش (اور) حد سے نکلا…سورہ آیت 31/59 — دخان الدخان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: دخان سنیں, دخان ترجمہ, دخان mp3, دخان pdf. آیت 29–33. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








