احقاف · 26/35
ترجمہ تلفظ — احقاف
وَلَقَدْ مَكَّنَّاهُمْ فِيمَا إِن مَّكَّنَّاكُمْ فِيهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَأَبْصَارًا وَأَفْئِدَةً فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَا أَبْصَارُهُمْ وَلَا أَفْئِدَتُهُم مِّن شَيْءٍ إِذْ كَانُوا يَجْحَدُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۝٢٦
Wa laqad makkannaahum feemaaa im makkannaakum feehi waj`alnaa lahum sam`anw wa absaaranw wa af`idatan famaaa aghnaa `anhum samu`uhum wa laaa absaaruhum wa laaa af`idatuhum min shai`in iz kaanoo yajhadoona bi Aayaatil laahi wa haaqa bihim maa kaanoo bihee yastahzi`oon
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دیئے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دیئے اور انہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے۔ تو جب کہ وہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے تو نہ تو ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آسکے اور نہ آنکھیں اور نہ دل۔ اور جس چیز سے استہزاء کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مکّنّاهم: ہم نے انہیں قدرت و طاقت دی، زمین میں انہیں جگہ دی اور وسائل عطا کیے۔
  • فیما إن مکّنّاکم فیه: اس چیز میں جس میں ہم نے تمہیں (اے اہل مکہ!) قدرت نہیں دی۔
  • أفئدۃ: دل (سمجھنے کی صلاحیت
  • أغنی: کوئی فائدہ پہنچایا، کچھ کام آیا۔
  • یجحدون: انکار کرتے تھے، جھٹلاتے تھے۔
  • حاق: الٹ پڑا، نازل ہو گیا، گھیر لیا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں قریشِ مکہ کو نصیحت اور ڈر سناتے ہوئے قومِ عاد کا ذکر فرما رہے ہیں۔ اللہ نے قومِ عاد کو زمین میں بہت بڑی طاقت اور قوت عطا کی تھی — لمبی عمریں، مضبوط جسامت، کشادہ رزق، اور شاندار تمدن۔ انہیں ایسی قوتیں دی گئی تھیں جو تمہیں (اے کفارِ مکہ!) نہیں دی گئیں۔ ان کے پاس کان تھے سننے کے لیے، آنکھیں دیکھنے کے لیے، اور دل سمجھنے کے لیے۔ لیکن انہوں نے ان نعمتوں کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال کیا — اپنے کانوں سے حق نہ سنا، اپنی آنکھوں سے اللہ کی نشانیاں نہ دیکھیں، اور اپنے دلوں سے غور و فکر نہ کیا۔

جب اللہ کا عذاب آیا تو ان کے کان، آنکھیں اور دل کچھ بھی کام نہ آئے۔ نہ ان کی طاقت نے انہیں بچایا، نہ ان کے مال و دولت نے، نہ ان کی قوتِ جسمانی نے۔ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور اپنے نبی ہود علیہ السلام کے پیغام کو جھٹلاتے تھے۔ آخرکار وہ عذاب ان پر الٹ پڑا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے — وہی عذاب جسے وہ جلدی مانگتے تھے اور اسے دور کی چیز سمجھتے تھے، انہیں گھیر لیا۔

یہ آیت اہلِ مکہ کے لیے سخت تنبیہ ہے کہ اگر تم اللہ کے رسول ﷺ کی دعوت کو جھٹلاؤ گے اور اللہ کی نشانیوں کا انکار کرو گے، تو تمہارا انجام بھی قومِ عاد جیسا ہو سکتا ہے۔ جو لوگ اپنی طاقت اور وسائل پر گھمنڈ کرتے ہیں، اللہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ یہ سب کچھ عارضی ہے — اصل کامیابی اللہ کی اطاعت میں ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے: اللہ کی دی ہوئی نعمتیں — آنکھیں، کان، دل، مال، صحت — سب امانت ہیں۔ ان کا صحیح استعمال یہ ہے کہ ہم انہیں اللہ کی رضا کے لیے استعمال کریں، حق کو سنیں، سچ کو دیکھیں، اور دل سے غور کریں۔ اگر ہم ان نعمتوں کو اللہ کی نافرمانی میں صرف کریں گے، تو یہ ہمارے خلاف گواہی دیں گی۔ یاد رکھیے! دنیا کی طاقت اور وسائل کسی کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتے۔ اللہ سے جڑے رہیں، اس کی آیات پر غور کریں، اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں — یہی نجات کا راستہ ہے۔ اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 24-28 — احقاف

24فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ ۖ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
پھر جب انہوں نے اس (عذاب کو) دیکھا کہ بادل (کی صورت میں) ان کے میدانوں کی طرف آرہا ہے تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا۔ (نہیں) بلکہ (یہ) وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے یعنی آندھی جس میں درد دینے والا عذاب بھرا ہوا ہے
25تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا فَأَصْبَحُوا لَا يُرَىٰ إِلَّا مَسَاكِنُهُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ
ہر چیز کو اپنے پروردگار کے حکم سے تباہ کئے دیتی ہے تو وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔ گنہگار لوگوں کو ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں
26وَلَقَدْ مَكَّنَّاهُمْ فِيمَا إِن مَّكَّنَّاكُمْ فِيهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَأَبْصَارًا وَأَفْئِدَةً فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَا أَبْصَارُهُمْ وَلَا أَفْئِدَتُهُم مِّن شَيْءٍ إِذْ كَانُوا يَجْحَدُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دیئے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دیئے اور انہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے۔ تو جب کہ وہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے تو نہ تو ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آسکے اور نہ آنکھیں اور نہ دل۔ اور جس چیز سے استہزاء کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا
27وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ وَصَرَّفْنَا الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
اور تمہارے اردگرد کی بستیوں کو ہم نے ہلاک کر دیا۔ اور بار بار (اپنی) نشانیاں ظاہر کردیں تاکہ وہ رجوع کریں
28فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ قُرْبَانًا آلِهَةً ۖ بَلْ ضَلُّوا عَنْهُمْ ۚ وَذَٰلِكَ إِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
تو جن کو ان لوگوں نے تقرب (خدا) کے سوا معبود بنایا تھا انہوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی۔ بلکہ وہ ان (کے سامنے) سے گم ہوگئے۔ اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور یہی وہ افتراء کیا کرتے تھے
احقافقرآن فہرست
35آیت
مکیRevelation
26آیت

ترجمہ — احقاف 26

سورہ احقاف آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دیئے تھے جو…

سورہ آیت 26/35 — احقاف الأحقاف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: احقاف سنیں, احقاف ترجمہ, احقاف mp3, احقاف pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں